’’اومیکرون زیادہ قوتِ مدافعت کی حامل آبادی کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہفتے کے روزبتایا ہے کہ کرونا وائرس کی اومیکرون شکل کے 89 ممالک میں کیس رپورٹ ہوئے ہیں، لوگوں کے آپس میں گھلنے ملنے سے یہ وائرس تیزی ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہو رہا ہے اور ڈیڑھ سے تین دن میں کیسوں کی تعداد دُگنا ہو رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اومیکرون وائرس اعلیٰ سطح کی قوتِ مدافعت کی حامل آبادی والے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ آیا اس کی وجہ وائرس کی قوت مدافعت سے بچ نکلنے کی صلاحیت ہے یااس کی فطری بڑھوتری اور ایک فرد سے دوسرے میں فرد میں منتقلی ہے یا یہ ان دونوں کا مجموعہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے 26 نومبر کو اومیکرون کا پہلی بار پتا چلنے کے فوری بعد تشویش کا اظہار کیا تھااور کہا تھا کہ ابھی تک اس کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں اور اس میں اس کی وجہ سے ہونے والی بیماری کی شدت بھی شامل ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اومیکرون کی طبّی شدت کے بارے میں ابھی محدوداعداد و شمار دستیاب ہیں۔اس کی شدت کو سمجھنے کے لیے مزید ڈیٹا کی ضرورت ہے اوریہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس کے ویکسین لگوانے والے افراد اور پہلے سے موجود قوتِ مدافعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ’’اب بھی محدود اعداد و شماردستیاب ہیں لیکن ویکسین کی افادیت یا اثر پذیری کے بارے میں کوئی معاصر تجزیہ نہیں کیاگیا ہے‘‘۔

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ کیسوں میں اتنی تیزی سے اضافہ ہونے سے بعض مقامات پر اسپتال دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

برطانیہ اور جنوبی افریقا میں اومیکرون سے متاثرہ مریضوں کے اسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسوں کے پیش نظر یہ ممکن ہے کہ بہت سے مقامات پر صحت کی نگہداشت کے نظام دباؤ میں آ جائیں اور مریضوں سے بھر جائیں۔اس کی وجہ سے ان کی فعال رہنے کی صلاحیت مفلوج ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں