سعودی عرب اورخلیج کی سلامتی کے تحفظ کے پابند ہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس نے العربیہ کو خصوصی بیان میں کہا ہے کہ امریکا سعودی عرب اور خلیج کی سلامتی کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ریاض میں حالیہ خلیجی سربراہ اجلاس کی کامیابی کو سراہا۔

وائٹ ہاؤس نےکہا کہ عراق میں ایران نواز ملیشیا نے امریکی افواج کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ شام میں انسانی صورتحال تشویشناک ہے، اور ہم داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے وہاں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھیں گے۔

ایران کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے ایک سینیر اہلکار نے العربیہ اور الحدیث چینلز کو خصوصی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ایرانی آرام دہ اقتصادی حالت میں ہیں۔ یقیناً ویانا میں پہلے دور کے بعد ان کی کرنسی گر گئی تھی۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم نے تمام پابندیوں کو برقرار رکھا ہے۔ میرے خیال میں یہ پچھلی انتظامیہ کے مقابلے میں مختلف ہے جس نے غیر واضح اہداف کے حصول کے لیے پابندیاں لگائی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری تعمیل کی طرف واپسی کے بارے میں ہمارا ایک بہت واضح مقصد ہے۔ کم از کم، پابندیوں کا پیکج جو JCPOA سے منسلک تھا اس وقت تک نہیں اٹھایا جائے گا جب تک ہم تعمیل پر واپس نہیں آتے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمارکے مطابق ایران اپنے پراکسیوں پر سالانہ 2 بلین ڈالر خرچ کرتا ہے۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جب ہم ایران پر پابندیوں کی بات کرتے ہیں تو یہ ایران کے علاقائی برتاؤ ، اس کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی مداخلت کی وجہ سے ہیں۔

اس لیے میں نے نئے ایرانی بجٹ اور اس کی دفعات پرغور نہیں کیا لیکن میرا خیال ہے کہ ایران کا موجودہ بجٹ گذشتہ سال کی نسبت ً 20 فیصد زیادہ متاثر ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران نے ابھی تک پابندیوں کے خاتمےکے لیے جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں