یواے ای کا سرکاری شعبے کے لیے نئے سال کی چھٹی، تین روزہ اختتام ہفتہ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے یکم جنوری کو سرکاری شعبے کے لیے نئے سال کی چھٹی کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت تمام وزارتوں اور وفاقی اداروں کے ملازمین کو اختتام ہفتہ پر تین چھٹیاں ہوں گی۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے اتوارکوخبر دی ہے کہ تمام وزارتوں اور وفاقی اداروں میں ہفتہ یکم جنوری 2022ء کو سرکاری چھٹی ہوگی اور سرکاری دفاتر پیر3 جنوری کو دوبارہ کھلیں گے۔

وفاقی اتھارٹی برائے سرکاری انسانی وسائل کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق آغاز سال پرنئی چھٹیاں وفاقی حکومت کے محکموں میں ہفتے کے دن کام کے نئے نظام پر مبنی ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں امارات کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی معیشت کوعالمی منڈیوں کے ساتھ بہترطور پر ہم آہنگ کرنے کے لیے نئے سال کے آغاز سے سرکاری دفاترمیں ہفتہ اوراتوارکوچھٹی کرے گی اور ہفتے میں ساڑھے چار دن کام ہوگا۔تاہم نجی کمپنیاں ہفتے میں اپنے ایام کار کے انتخاب میں آزاد ہوں گی۔

تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاست میں اس وقت جمعہ اور ہفتہ کو چھٹی ہوتی ہے اور جمعرات تک کام ہوتا ہے۔ تاہم یکم جنوری سے اختتام ہفتہ کا آغاز جمعہ کی سہ پہر سےہوگا۔ اسکولوں میں بھی یہی اوقات کار نافذالعمل ہوں اورانھیں بھی ہفتے میں ڈھائی چھٹیاں ہوں گی۔

یواے ای کےانسانی وسائل اور اماراتیانے کے وزیرعبدالرحمٰن العوار نے رائٹرز کو بتایا کہ ہر کمپنی کے نظام الاوقات اس کے شعبے پرمنحصر ہیں جس میں وہ کام کرتی ہے۔وہ اپنے ملازمین کے لیے ہفتے بھر کے ایام کار کا اپنے شعبے کے مطابق خود انتخاب کر سکتی ہے۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ طویل اختتام ہفتہ اور جمعہ کی سہ پہر سے چھٹی سے ملازمین کے کام اورنجی زندگی کے درمیان توازن میں بہتری آئے گی۔

اماراتی حکومت کے مطابق اس اقدام سے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنیوں اورکثیرالقومی فرموں کوسوموار سے جمعہ تک کام کرنے والے ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے گا اور ان کے ساتھ مالی، تجارتی اور اقتصادی لین دین کو یقینی بنایا جائے گاجس سے مضبوط بین الاقوامی کاروباری روابط اور مواقع کی دستیابی میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے مرکزی بنک جیسے ریاستی اداروں پراثر پڑے گا۔وہ کام کے نئے اوقات کے بارے میں تفصیل سے تجارتی بنکوں کوآگاہ کریں گے۔ نیزمتحدہ عرب امارات کے اسٹاک ایکسچینج بھی عالمی منڈیوں کے ساتھ زیادہ مربوط اور ہم آہنگ ہوں گے۔

’’اس تبدیلی سے بین الاقوامی سطح پربینکنگ کمیونٹی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے شعبہ بنک کاری کےانضمام میں اضافہ ہوگا اورماضی میں موجود رہ جانے والے خلا کا خاتمہ ہو جائے گا‘‘۔العوار کا کہنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں