اسرائیلی وزارت صحت کی شہریوں کو امریکا کا سفر نہ کرنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزارت صحت نے اتوار کے روز اسرائیلی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امریکا کا سفر نہ کریں۔ اسی طرح وزارت نے مطالبہ کیا ہے کہ ریڈ لسٹ میں رکھے گئے ممالک میں بعض یورپی ممالک کا اضافہ کیا جائے۔ یہ اقدامات کرونا وائرس کے نئی صورت "اومیکرون" کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے سلسلے میں ہیں۔

اسرائیلیوں کو امریکا کے سفر سے روکے جانے کا فیصلہ حکومت کے لیے انتہائی پیچیدہ ہو سکتا ہے کیوں کہ ایسے لاکھوں افراد ہیں جو دونوں ملکوں کی شہریت رکھتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "اسرائیل کو کووڈ-19 کی پانچویں لہر کا سامنا ہے ... اومیکرون ویرینٹ یہاں پہنچ چکا ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے"۔

بینیٹ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ سفر کی ممانعت پر عمل جاری رکھیں گے تا کہ مزید لاک ڈاؤن سے اجتناب برتا جا سکے۔

اسرائیلی پارلیمںٹ نے اتوار کے روز وزارت صحت کی سابقہ سفارشات کو منظور کر لیا تھا۔ ان سفارشات میں اسرائیلیوں کو فرانس، آئرلنیڈ، ناروے، ہسپانیہ، فن لینڈ اور سویڈن کا سفر کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اسی طرح اسرائیل نے برطانیہ اور ڈنمارک کو کرونا وائرس سے متعلق اپنی ریڈ لسٹ میں شامل کر لیا۔ اس فہرست میں افریقا کے زیادہ تر ممالک کے نام موجود ہیں۔

مزید برآں وزارت صحت نے کینیڈا، بیلجیم، اطالیہ، جرمنی، ہنگری، پرتگال، سوئٹزرلینڈ، ترکی اور مراکش کو بھی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ سفارش حکومتی منظوری کی منتظر ہے۔

اسرائیل میں جمعے کے روز تک "اومیکرون" کے 441 مصدقہ کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں