تونس : سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے بیچ تیسرے روز بھی جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تونس میں ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ القصرین صوبے میں سیکورٹی فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان مسلسل تیسرے روز جھڑپیں ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق النور کے علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر اُس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے ٹائر جلائے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔

سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا۔ بعد ازاں ان میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا۔

النور کے علاقے میں ہفتے کے روز سے جھڑپوں کا سلسلہ دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ دارالحکومت تونس میں جمعے کے روز صدر قیس سعيّد کے حالیہ فیصلوں کی تائید میں مظاہرے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں دیگر مظاہرے ان فیصلوں کی مخالفت میں دیکھنے میں آئے۔ یہ صورت حال عوامی انقلاب کے 11 سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آئی ہے۔

تونس کے صدر نے پیر کے روز اعلان میں کہا تھا کہ 17 دسمبر 2022ء میں قبل از وقت انتخابات تک پارلیمنٹ کے اختیارات منجمد رکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس دوران میں آئینی اصلاحات کے حوالے سے قومی ریفرینڈم کا انعقاد کیا جائے گا۔ تاہم ان فیصلوں نے سیاسی میدان کو تقسیم کر دیا اور فیصلوں کے حق میں اور اس کی مخالفت میں دو کیمپ بن گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں