دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈا وَبا کے بعد پہلی مرتبہ 100 فی صد فعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مارچ 2020ء میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد دنیا کے مصروف ترین سفری مراکز میں سے ایک دبئی کا ہوائی اڈا پہلی مرتبہ مکمل طور پر فعال ہوگیا ہے۔

دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کےکووڈ-19 بحران کے باعث بند ہونے والے حصوں کا افتتاح ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب متحدہ عرب امارات میں نئی اومیکرون شکل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور ملک میں ایک مرتبہ کرونا وائرس کے تشخیص شدہ یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ آخری بند حصے کھلنے کے بعد ہوائی اڈا 100 فی صد فعال ہوچکا ہے۔اس کے تمام ٹرمینلز، ہال، لاؤنج، ریستوران اور خوردہ دکانیں اب کھلی ہیں۔

دبئی کے ہوائی اڈے سے سال کے آخر میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔یواے ای میں مقیم غیرملکیوں کثیر تعداد چھٹیاں منانے کے لیے اپنے آبائی ممالک کا رخ کررہی ہےجبکہ غیرملکی سیاح اور زائرین نیا سال منانے کے لیے دبئی میں آتے ہیں۔

گذشتہ سال دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ٹریفک میں 70 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔2019 میں آٹھ کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں اس ہوائی اڈے کے ذریعے سفر کیا تھا لیکن 2020 ء میں کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مسافروں کی تعداد گھٹ کردوکروڑ 60 لاکھ رہ گئی تھی۔

رواں سال کی پہلی ششماہی میں ایک کروڑ 6 لاکھ افراد نے ہوائی اڈے کے ذریعے سفر کیا۔یہ تعداد وباسے پہلے کے اعداد و شمار سے 41 فی صد کم ہے۔دبئی سیاحت کا ایک اہم مرکز ہے اور اس نے 2019 میں ایک کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ زائرین کا خیرمقدم کیا تھا۔

دبئی سمیت سات اماراتوں پر مشتمل متحدہ عرب امارات نے اپنی قریباً ایک کروڑ آبادی کے لیے ویکسین لگانے کی ایک جامع مہم چلائی ہےلیکن اس کے باوجود کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک بارپھر اضافہ ہو رہا ہے۔یواے ای میں اتوارکو285 کیس ریکارڈ کیے گئے جبکہ گذشتہ ہفتے یہ تعداد صرف 92 تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں