لیبیا: صدارتی امیدواروں کا انتخابات میں تاخیر کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنگ زدہ لیبیا میں صدارتی امیدواروں کے ایک گروپ نے انتخابات کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہےکہ انتخابات میں تاخیر ناگزیرہے اور وہ اس بارے جلدسرکاری اعلان کی توقع کرتے ہیں۔

صدارتی انتخابات کے لیے آیندہ جمعہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ان کا مقصد ایک عشرے سے ملک میں جاری تنازع کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں امن عمل کو آگے بڑھانا ہےلیکن ان انتخابات کی قانونی بنیاد پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے اورممتاز امیدواروں کوعدالتی چیلنجوں کا سامنا ہوسکتاہے۔

پیر کے روز17 امیدواروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے واضح طور پرتسلیم کیا کہ انتخابات میں تاخیرناگزیر ہے۔

گروپ نے انتخابی کمیشن پرزور دیا کہ وہ’’مقررہ تاریخ پر انتخابات نہ ہونے کی وجوہات منکشف کرے‘‘۔نیزانھوں نے کمیشن سے انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعدد مبصرین نے پولنگ میں تاخیرکی پیشین گوئی کی ہے لیکن ووٹ سے چند روز قبل کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء کے انقلاب کے بعد گذشتہ ایک دہائی کے دوران میں خانہ جنگی جاری ہے۔لیبیا میں اکتوبر2020 میں تاریخی جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے گذشتہ ایک سال کے دوران میں حالات نسبتاً پرسکون رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کثیرالجہت امن کوششوں کے حصے کے طور پرانتخابات کے انعقاد پرزور دے رہی ہے۔

لیکن ایک متنازع انتخابی قانون اور اگلی حکومت کے اختیارات پراتفاق نہ ہونے کی وجہ سے امن عمل میں کئی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے فوجی جنرل خلیفہ حفتر اورسابق مقتول حکمران کرنل معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کی امیدواری نے حریف کیمپوں کی خاص مخالفت کو جنم دیا ہے۔

لیبیا میں ہزاروں غیر ملکی جنگجوؤں سمیت درجنوں مسلح گروہ موجود ہیں۔ملک کے بہت سے علاقے ان کے کنٹرول میں ہیں۔اس صورت حال میں تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی تیزی سے نازک ہوتی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں