ایران کی وسیع تر فوجی مشقیں،امریکا کا سفارت کاری کا 'متبادل' تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے منگل کے روز اپنے واحد جوہری بجلی گھر سمیت تین صوبوں میں جاری فوجی مشقوں کے حصے کے طور پر زمین اور سمندر سے میزائل داغے ہیں۔یہ فوجی مشقیں سوموار کو شروع ہوئی تھیں اور یہ پانچ روز تک جاری رہیں گی۔

ایران کی ان فوجی مشقوں سے چندے قبل امریکا نے کہا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگانے کے سمجھوتےکی بحالی کے لیے ویانا میں مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ’متبادل‘تیارکررہا ہے۔

پاسداران انقلاب کی سپاہ نیوزویب سائٹ کے مطابق بحریہ کے کمانڈرریئرایڈمرل علی رضا تنگسری نے بتایا کہ ’’ہم نے دشمن کو ہرمزجزیرے کے قریب پہنچنے سے پہلے تباہ کرنے کی مشقیں کی ہیں‘‘۔

ابو موسیٰ جزیرہ اورآبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب خلیج میں واقع طنب الکبریٰ اور طنب صغریٰ جزائر ایران کے کنٹرول میں ہیں لیکن متحدہ عرب امارات بھی ان دونوں جزائرپر دعوے دار ہے۔دنیا میں تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز ہی سے ہوکرگزرتا ہے۔

فوجی مشقیں،جنھیں پیغمبراعظم یا ’’عظیم نبی‘‘کا نام دیا گیا ہے، پیر کو بوشہر، ہرمزگان اور خوزستان صوبوں میں شروع ہوئی تھیں۔ان تینوں کی سرحدیں خلیج کے ساتھ واقع ہیں۔ان میں حیاتیاتی جنگی مشقیں بھی شامل ہیں۔

ان فوجی مشقوں میں ایرانی ساختہ کشتیاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔وہ انتہائی درست انداز میں ٹھیک ٹھیک میزائل داغنے اور 75 سے 95 ناٹیکل میل تک کی رفتار سے سمندر میں چلنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

بوشہر کے سیاسی اور سلامتی امور کے نائب گورنر محمد تقی نے ایران کے خبر رساں ادارے فارس کو بتایا کہ پیر کی صبح کے وقت مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بوشہر جوہری بجلی گھر پر ایک مشق کی گئی تھی۔

چاردسمبر کوایران کے وسطی علاقے نطنز میں ایرانی فضائی دفاعی تجربے کے نتیجے میں دھماکا ہوا تھا۔اس کی آواز نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کی تنصیب سے قریباً 20 کلومیٹر(12 میل) دور سنی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں