یمن اور حوثی

حوثی ملیشیا نے صنعاء ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں کی ورکشاپ بنارکھا ہے: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ پیر کے روز یمن کے دارالحکومت صنعاءکے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال پرایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف محدود فوجی آپریشن کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے اس ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری کے لیے ورکشاپ بنا رکھا ہے اور وہ انھیں یمن اور سعودی عرب کے جنوبی شہروں کی جانب حملوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

حوثی ملیشیا یمن اوراس کے پڑوسی ممالک کے اندرعام شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونزاورکھلوناطیاروں سے حملے کررہی ہے اور سرحد پارمعاندانہ کارروائیوں کے لیے صنعاء کے ہوائی اڈے کے خصوصی استثناکا فائدہ اٹھاتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے وضاحت کی کہ اتحاد نے’’اضافی پروٹوکول 1 کے آرٹیکل (52) کے پیراگراف (2) اور روایتی بین الاقوامی انسانی قوانین کے قواعد (7 اور 8) کی بنیاد پرہوائی اڈے کے اندر کچھ جگہوں کا استثنائی تحفظ ختم کرنے کے لیے تمام قانونی اقدامات کیے ہیں‘‘۔

ترکی المالکی نے مزید کہا کہ حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور کھلونا بم حملوں کی سرگرمی کا انتظام کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی چھے جگہوں، ڈرونزبنانے اور چلانے والوں کی تربیت گاہ اوراقامت گاہ کے علاوہ بارودی ڈرونز کے دو گوداموں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان اہداف کوناکارہ بنانے یا تباہ کرنے سے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی فعال صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اوراس سے فضائی حدود، فضائی ٹریفک اور برسرزمین کارروائیوں کے انتظام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ترکی المالکی نے العربیہ نیوز سے انٹرویومیں کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے شہری تنصیبات اوراشیاء کوڈھال کے طور پراستعمال کیا ہے۔عرب اتحاد نے صنعاء ہوائی اڈے پر فوجی تنصیبات پر حملے شروع کرنے سے قبل تمام قانونی اقدامات کیے ہیں۔

انھوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین شہری مقامات کا استثنا ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔اتحاد نے حفظ ماتقدم کے طور پرشہریوں کو صنعاء کے ہوائی اڈے سے انخلا کی وارننگ دی ہے، حالانکہ وہاں کوئی شہری موجود نہیں ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہوائی اڈے پراتحاد کے فضائی حملوں میں جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ ہم اس بات کے خواہاں تھے کہ صنعاء ایئرپورٹ کی آپریشنل کارروائیاں متاثر نہ ہوں۔

ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو نشانہ بنانے سے قبل شہریوں کو آگاہ کرتا ہے۔نیزاس کی یمن میں مستقل پالیسی اور دفاعی حکمتِ عملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں