رواں سال یمنی حوثیوں کے سعودی عرب میں شہری اہداف پرحملوں میں دُگنااضافہ:رپورٹ

2021ء کے پہلے نوماہ میں حوثیوں کے حملوں کی مجموعی تعداد 2020ء کے پورے سال کے مقابلے میں زیادہ تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

واشنگٹن میں قائم تزویراتی اور بین الاقوامی مطالعاتی مرکز (سنٹرفاراسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز،سی ایس آئی ایس) کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے رواں سال کے پہلے نوماہ کے دوران میں سعودی عرب میں شہری اہداف پر2020ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں دُگنا حملے کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس اورلبنان کی حزب اللہ نے ہی یمن میں حوثی ملیشیا کو ہتھیار، ٹیکنالوجی، تربیت اور دیگر امداد مہیا کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ امریکا سعودی عرب کواپنے دفاع کی غرض سے امداد میں اضافہ کرے۔ رپورٹ میں جنوری 2016 سے 21 اکتوبر2021ء تک یمن سےحوثیوں کے سعودی عرب پر4000 سے زیادہ فضائی حملوں اورخلیج میں بحری حملوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

گذشتہ سال جنوری سے ستمبر تک حوثیوں نے ماہانہ اوسطاً 38 حملے کیے تھے۔ اس کے برعکس اب یہ حملے بڑھ کر اوسطاً 78 ماہانہ ہوگئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف اس سال ان حملوں کی تعداد مجموعی طور پر702 ہوچکی ہے۔

یہ اضافہ شمال میں یمنی حکومت کے آخری گڑھ مآرب پر حوثیوں کی مسلسل جارحیت کا براہ راست نتیجہ تھا۔سی ایس آئی ایس کے مطابق رواں سال اگست میں حوثی ملیشیا نے مجموعی طور پر133 حملے کیے تھے۔2016 کے بعد ایک ماہ میں حوثیوں کے حملوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درحقیقت 2021ء کے پہلے نوماہ میں حملوں کی مجموعی تعداد 2020 ءکے پورے سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔اعدادوشمار سے یہ بھی پتاچلا ہے کہ رواں سال اضافے سے قبل 2019ء اور2020ء میں سعودی عرب پرحوثیوں کے حملوں کی تعداد میں کمی آئی تھی۔اس سے ظاہرہوتا ہے کہ حوثی حملوں کی صلاحیت اور خواہش رکھتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ حوثی کروز اور بیلسٹک میزائل جیسے جدید ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں۔اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں میں بہتری آرہی ہے۔ سی ایس آئی ایس نے کہا کہ تیسری بات یہ ہے کہ حوثی یمن کے بعض علاقوں بشمول صوبہ مآرب میں فوجی حملوں کے ساتھ سعودی عرب میں اپنے اقدامات کی تکمیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان اعدادوشمار کے تجزیہ کے بعد سی ایس آئی ایس نے کہا ہے کہ حوثی یمن میں بڑھتے ہوئے تشدد کی علامت کے طور پرسعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف اپنی ’’بے قاعدہ جنگی مہم‘‘میں اضافہ کررہے ہیں۔

رپورٹ میں سعودی عرب کی زمینی اورفضائی افواج کی جانب سے یمن سے داغے گئے قریباً 90 فی صد ڈرونز اور میزائلوں کو مارگرانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران اورحوثیوں نے سعودی عرب اورخلیج کے دیگر ممالک کودھمکیاں دینے کی صلاحیت کا برابرمظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ میں امریکااور اس کے اتحادیوں کوسفارش کی گئی ہے کہ ایران اور حوثیوں کی سرگرمیوں کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے’’زیادہ جارحانہ مہم‘‘چلائیں۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں نہ صرف سعودی عرب کے خلاف حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہےبلکہ ایران اور لبنانی حزب اللہ یمن میں حوثی ملیشاکوجدیدترین ہتھیاروں کے نظام مہیاکررہے ہیں۔سی ایس آئی ایس نے کہا کہ حوثیوں کے قلیل مدتی اہداف میں یمن کے اندر اور بین الاقوامی سطح پراثرورسوخ اورطاقت کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ان کاطویل مدت مقصد یہ ہے کہ وہ حوثی قیادت میں یمن میں ایک مذہبی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں