کابل ہوائی اڈے کا انتظام چلانے کے لیے ترکی اور قطری حکام کا دورہ کابل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک وزیر خارجہ مولوت جاووش اوگلو نے کہا ہے کہ ترک اور قطری حکام نے پیر کی شام دوحہ میں ملاقات کی جس کے بعد "طالبان" تحریک کے ساتھ کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے لیے ایک باضابطہ معاہدے پر بات چیت کے لیے افغان دارالحکومت جائیں گے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ نے رپورٹ میں بتایا کہ ترکی نے گذشتہ اگست میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد قطر کے ساتھ ساتھ کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو چلانے کے لیے تیاری کا اعلان کیا، اس شرط پر کہ اس کے سیکیورٹی مطالبات کو پورا کیا جائے۔

ایجنسی نے بتایا کہ ہوائی اڈہ افغانستان کے لیے دنیا میں سب سے نمایاں لینڈ لاکڈ ہوائی رابطہ ہے۔ دوسری طرف لاکھوں شہریوں کو سخت سردی کے دوران فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اتوار کے روزاسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے افغانستان کے بگڑتے ہوئے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے کا عہد کیا۔

انقرہ کابل ہوائی اڈے کے حوالے سے دوحہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، اوراعلان کیا ہے کہ وہ اسے چلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ رائیٹرز نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ہوائی اڈے کا انتظام کرنے کے لیے "طالبان" کے ساتھ بھی بات چیت کی۔

5 ہوائی اڈوں کا انتظام

جاووش اوغلو نے کہا کہ دو ترک اور قطری کمپنیوں نے افغانستان کے پانچ ہوائی اڈوں کے انتظام کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جن میں حامد کرزئی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، لیکن انہوں نے دیگر چار ہوائی اڈوں کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں ہم افغانستان کی عبوری حکومت کو مشترکہ پیشکش کریں گے۔ ہمارے ساتھی آج رات دوحہ جا رہے ہیں اور وہاں سے ایک ساتھ کابل جائیں گے۔ وہاں کی عبوری حکومت سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر ہماری شرائط پوری ہو جائیں تو ہم قطر کے ساتھ ہوائی اڈے آپریٹ کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم پر انہیں چلانے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ قطری حکام نے ترکی کے ساتھ مل کر ہوائی اڈے کے انتظام میں تعاون کیا جب انہوں نے گذشتہ اگست میں امریکی فوج کے افراتفری کے بعد وہاں سے شہریوں اور غیر ملکیوں کو نکالنے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن ذرائع نے ایجنسی کو نومبر میں بتایا تھا کہ طالبان نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی سرکاری انتظام نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں