کرونا وائرس

جنوبی افریقا:تحقیقی مطالعہ میں اومیکرون سے شدید بیماری کا خطرہ کم ہونے کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی افریقا میں ایک تحقیقی مطالعہ میں بدھ کے روز اومیکرون کی شدت کے بارے میں کرسمس سے قبل اچھی خبر پیش کی گئی ہے جبکہ دنیا میں تیزی سے پھیلنے والی کروناوائرس کی اس شکل نے بہت سے ملکوں کو نئی قدغنیں لگانے پر مجبورکردیا ہے۔

حکومتوں نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ ویکسین کی دونوں خوراکوں کے علاوہ تیسری تقویتی خوراک بھی لگوائیں۔جرمنی،اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا نے حالیہ دنوں میں جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن یا سماجی فاصلے کے دیگراقدامات دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔آسٹریا، بیلجیئم، جمہوریہ چیک اور اسپین بھی نئے اقدامات پرغورکر رہے تھے۔

اومیکرون کی پہلی بار گذشتہ ماہ جنوبی افریقا اور ہانگ کانگ میں تشخیص ہوئی تھی۔اب تک کے مطالعات سے پتاچلا ہے کہ یہ خودکو ظہورپذیر ہونے سے پہلے تیارکردہ ویکسین کے خلاف وائرس کی دوسری شکلوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحم ہے۔

تاہم جنوبی افریقا میں نئے مطالعہ سے پتاچلا ہے کہ اومیکرون سے متاثرہ افراد کے اسپتال میں ڈیلٹا سے متاثرہ افراد کے مقابلے میں جانے کا امکان کم تھا۔

’مثبت کہانی‘

جنوبی افریقا کےقومی ادارہ برائے وبائی امراض(این آئی سی ڈی) اور بڑی یونیورسٹیوں کے مطالعے میں اکتوبر اورنومبرمیں جنوبی افریقا میں سامنے آنے والے اومیکرون وائرس کے اعداد وشمار کا اپریل اور نومبر کے درمیان ڈیلٹا شکل کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا گیا ہے۔

اس تحقیقی مطالعہ کے مصنفین نے یہ تجزیہ کیا ہے کہ اومیکرون کے شکارافراد کےاسپتال میں داخلے کا خطرہ قریباً 80 فی صد کم تھا اور اسپتال میں داخل ہونے والوں کے لیے شدید بیماری کا خطرہ قریباً 30 فی صد کم تھا۔تاہم اس مطالعے کا اشاعت سے قبل ماہرین نے تنقیدی جائزہ نہیں لیا ہے۔

مصنفین میں سے ایک این آئی سی ڈی کی پروفیسر شیرل کوہن نے کہا کہ ’’جنوبی افریقامیں یہ وبائی مرض ہے اور اومیکرون اس طرح کا برتاؤ کررہا ہے،جوکم شدید ہے۔ ہمارے اعدادو شمارفی الواقع دیگراقسام کے مقابلے میں اومیکرون کی کم شدت کی ایک مثبت کہانی تجویز کرتے ہیں‘‘۔

اس کے باوجود مصنفین نے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے خبردار کیا ہے کیونکہ امپیریل کالج لندن کی گذشتہ ہفتے جاری کردہ ایک تحقیق میں اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا تھا کہ اومیکرون کم ضرررساں تھا۔

دریں اثناء اس وقت دنیا بھر کے پالیسی ساز اس معاشی دھچکے سے نمٹنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں جو نئی وباسے آسکتا ہے؛برطانیہ نے منگل کے روز کاروباری اداروں کے لیے ایک ارب پاؤنڈ (1.3 ارب ڈالر) کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ادھرجنوبی کوریا کے قریباً 300 کاروباری مالکان نے بدھ کے روز سیول میں سماجی فاصلے کے سخت قوانین کے دوبارہ نفاذ کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت پر زوردیا کہ وہ اپنی ’’ویکسین پاس‘‘پالیسی ختم کرے اور ان کے نقصانات کی تلافی کرے۔

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے ستائیس کروڑ سے زیادہ افراد کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ان میں سے قریباً 57 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔کروناوائرس کے کیسوں کی دسمبر2019ء میں سب سے پہلے چین کے وسطی شہر ووہان میں تشخیص ہوئی تھی۔اس کے بعد دنیا کے 210 سے زیادہ ممالک اور علاقوں میں انفیکشن کی اطلاعات ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں