سوڈانی وزیراعظم کا چند گھنٹوں میں مستعفی ہونے کا ارادہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک نے قومی شخصیات اور دانشوروں کے ایک گروپ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات حمدوک کے دو قریبی ذرائع نے منگل کے روز روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتائی۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ گروپ نے حمدوک پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے میں ترمیم کریں تاہم سوڈانی وزیر اعظم نے باور کرایا کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں اپنے فیصلے پر عمل کریں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 21 نومبر کو وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے ایک سیاسی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس سمجھوتے میں حمدوک کی اپنے منصب پر واپسی اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی تشکیل شامل ہے۔ تاہم سیاسی اور شہری جماعتوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مکمل شہری حکومت کے قیام تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس سے قبل مسلح افواج کی کمان نے 25 اکتوبر کو غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے حکومت اور سابقہ خود مختار کونسل کو تحلیل کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آئین پر عمل معطل کر دیا تھا۔

سوڈان کی وزارت صحت نے اتوار کی شام اعلان میں بتایا تھا کہ ہفتے کے روز شروع ہونے والے احتجاج میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 123 زخمی ہو گئے۔ یہ مظاہرے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک اور عبوری کونسل کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کے بیچ معاہدے کے خلاف ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عبداللہ حمدوک نے اتوار کے روز ہونے والے احتجاج کو "آگ میں پھسل جانے" کے مترادف قرار دیا۔ سوڈانی عوام کے نام اپنے خطاب میں حمدوک نے کہا کہ ان کا ملک انقلاب کے راستے پر بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ اس کے سبب ملک کے امن و استحکام اور وحدت کو خطرہ ہے۔

اتوار کے روز لاکھوں افراد نے اکٹھا ہو کر ریپبلکن پیلس کا رخ کیا تھا۔ مبصرین نے اس احتجاجی ریلی کو 19 دسمبر 2018ء کے عوامی انقلاب کے آغاز کے بعد سب سے بڑا احتجاج قرار دیا۔ مذکورہ عوامی انقلاب کے نتیجے میں سابق صدر عمر البشیر کو ان کے منصب سے معزول کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں