افغانستان وطالبان

امریکا نے طالبان، حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مشروط مالی معاملات کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی انتظامیہ نے امریکی اور یو این حکام کو طالبان حکام کے ساتھ سرکاری نوعیت کے مالی امور نمٹانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اجازت کا مقصد اقوام متحدہ کی جانب سے آنے والے سال میں طالبان کی حکومت کو 60 لاکھ ڈالر کی امداد کی فراہمی کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے یہ اعلان اقوام متحدہ کے سبسڈی منصوبے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ طالبان کی وزارت داخلہ کی تنخواہوں پر سبسڈی دیتے ہوئے ماہانہ الائونس جاری کرے گا۔

واشنگٹن نے طالبان کے اثاثوں کو منجمد کرتے ہوئے امریکی شہریوں پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ارکان کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

امریکی وزارت خزانہ نے افغانستان پر عائد پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے تین جنرل لائسنس جاری کئے ہیں جن کی مدد سے طالبان حکومت اور افغان عوام کو درپیش مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

ان میں سے دو لائسنسوں کی مدد سے امریکی حکومت اور یو این جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں کو سرکاری معاہدوں کی پاسداری کے لئے طالبان نمائندوں سے مالی معاملات مکمل کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

تیسرے لائسنس کے ذریعے سےاین جی اوز کو افغانستان میں بنیادی انسانی ضرورتوں کی فراہمی کے لئے منصوبوں پر عمل در آمد کی اجازت ہو گی۔

امریکا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے افغانستان کے 9 ارب ڈالر سے زائد کے نقد رقم کو منجمد کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دینے سے انکار کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ افغانستان کی کل آبادی کا 55 فیصد حصہ؛ تقریبا 2 کروڑ 30 لاکھ لوگ بھوک اور مفلسی کا شکار ہیں جبکہ 90 لوگ اس سردیوں میں قحط کا سامنا کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں