ایران جوہری معاہدہ

مغرب ایرانی جوہری پروگرام پراپنےخدشات دورکرنے کے لیے پابندیاں ختم کرے: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اگر مغربی طاقتیں جوہری پروگرام کی پیش رفت پراپنے خدشات دور کرنا چاہتی ہیں تو انھیں تہران پرعاید جوہری پروگرام سے متعلق تمام پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے 2015ء میں ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کا مخفف استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب مغربی طاقتیں یہ کہتی ہیں کہ انھیں ایران کے جوہری پروگرام کی پیش رفت کے بارے میں تشویش لاحق ہے تو ہم بالاصرار یہ کہتے ہیں وہ اپنے خدشات دورکرنے لیے جے سی پی او اے سے متعلق تمام پابندیاں ختم کریں‘‘۔

اس سمجھوتے پر دست خط کرنے والے باقی ممالک ایران، روس، چین، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے درمیان پانچ ماہ کے وقفے کے بعد نومبر میں ویانا میں بات چیت دوبارہ شروع ہوئی تھی۔

امیرعبداللہیان نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ انھوں نے مذاکرات میں ہمیشہ تعمیری کردارادا نہیں کیا اورانھوں نے’’مذاکرات میں کوئی نیا اقدام نہیں کیا‘‘۔

انھوں نے کہاکہ عمومی طور پر ہم بعض یورپی ممالک خاص طورپرفرانس کی پوزیشن کو تعمیری نہیں سمجھتے۔ ہمیں امید ہے کہ فرانس تعمیری کردار ادا کرے گا۔امیر عبداللہیان نے مذاکرات میں روس اورچین کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ ایران ’’نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ‘‘مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے،وہ دوسرے فریقوں کو’’ایک رعایت دینے اوراس کے بدلے میں دس حاصل کرنے‘‘کی اجازت نہیں دے گا‘‘۔

دریں اثناء حکام نے بتایا ہے کہ ویانا میں مذاکرات اگلے پیر کو دوبارہ شروع ہوں گے۔امریکا بالواسطہ طور پران مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے جن کامقصد ایران کو سمجھوتے کی پاسداری پرآمادہ کرنا اوراس میں امریکا کی واپسی کو آسان بنانا ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت ایران نے عالمی پابندیوں سے نجات کے لیے اپنا جوہری پروگرام محدود کر دیا تھا۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس سمجھوتے سے یک طرفہ دستبرداری اختیارکرلی تھی اور ایران کے خلاف دوبارہ امریکا کی سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

قبل ازیں ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی روب میلے نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ (مذاکرات میں) اب صرف ’’کچھ ہفتے‘‘ باقی ہیں،اس کے بعد جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔

میلے نے کہا کہ’’اگرایرانی اپنی موجودہ رفتار سے کام جاری رکھتے ہیں توہمارے پاس کچھ ہفتے باقی ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ نتیجہ یہ نکلے گا کہ بحالی کے لیے کوئی سمجھوتانہیں کیاجائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں