2022ء میں ایتھوپیا کے2کروڑ20 لاکھ باشندوں کوامدادی خوراک کی ضرورت ہوگی:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے 2022ء میں ایتھوپیا کے 2کروڑ20 لاکھ باشندوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کی رابطہ کاری کے دفتر نے کہا ہے کہ آیندہ سال میں جاری تنازعات، خشک سالی، سیلاب،وبائی امراض اور ٹڈی دل کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایتھوپیا کی انسانی ضروریات میں پہلے سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا کے متعدد علاقوں میں انسانی ضروریات زیادہ ہیں جہاں کم سے کم دو کروڑ افراد کو سال کے آخر تک کسی نہ کسی قسم کی انسانی امداد کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ایتھوپیا کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں خشک سالی کے گہرے اثرات کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔اُورومیا اور صومالی علاقوں کے جنوب میں مسلسل خشک سالی جیسی صورت حال خاص طور پرتشویش کا باعث ہے۔

امہارا کا علاقے میں،جہاں جولائی سے حالیہ دنوں تک کئی شہروں اور قصبوں پرتیغرائی فورسز کا کنٹرول تھا،سب سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں اوروہاں 37 لاکھ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق ایتھوپیا بھرمیں قریباً 40 لاکھ دربدر ہیں۔ان میں کی اکثریت تنازع کی وجہ سے جانی تحفظ اور امداد کی تلاش میں اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی افریقا میں واقع ملک کو قریباً 1.4 ارب ڈالر مالیت کی امداد درکار ہوگی۔اس رقم میں سے 89 کروڑ20 لاکھ ڈالر ابھی جمع کرنے کی ضرورت ہے۔

ایتھوپیا کے حکام نے ملک بھر کے متعدد علاقوں میں خشک سالی کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ کچھ متاثرہ حصوں میں غذائی امداد تقسیم کر رہے ہیں۔ لیکن امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ تیغرائی خطے کے بہت سے حصوں میں ان کی سرگرمیاں اب بھی محدود ہیں کیونکہ حکومتی فورسز نے خطے کو امداد کی ترسیل روک دی ہے۔

ایتھوپیا نومبر 2020ء سے شمالی تیغرائی سے تعلق رکھنے والی تیغرائی پیپلزلبریشن فرنٹ فورسز کے ساتھ مہلک تنازع میں جنگ آزماہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس تنازع نے ہزاروں افراد کی جان لے لی ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

جولائی کے اوائل میں تیغرائی فورسز نے ایک وسیع مہم کے بعد پڑوسی علاقوں امہارا اورعفارکے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا لیکن اب وہ اپنے خطے میں یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیچھے ہٹ رہی ہیں کہ وہ مذاکرات اور امن کو موقع دینا چاہتی ہیں۔ لیکن سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تیغرائی فورسز کو کچل دیا گیا ہے اور انھیں پسپائی پرمجبور کیا گیا ہے۔

ایتھوپیا کی سرکاری فوج گذشتہ ایک ہفتے سے تیغرائی کی علاقائی فورسز کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنا رہی ہے۔اس ریجن کے ذرائع ابلاغ نے خبردی ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت دسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں