حماس تنظیم لبنان میں عسکری فورس کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

رواں ماہ دسمبر کی دس تاریخ کو لبنان کے جنوبی شہر صور میں فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ "البرج الشمالی" میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ایک گودام میں زور دار دھماکا ہوا تھا۔ اس کیمپ پر فلسطینی تنظیم حماس کا کنٹرول بتایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ حماس کا عسکری ونگ یہاں لبنانی ریاست کے دائرہ کار سے باہر رہ کر کام کرتا ہے۔

عبرانی زبان کے اخبار "یسرائیل ہیوم" کے مطابق حماس تنظیم کے پاس GPS گائیڈڈ راکٹوں کی تیاری کا ایک خفیہ منصوبہ ہے۔ تنظیم نے 2018ء سے لبنان میں ایک پلان پر عمل درامد شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد سیکڑوں عناصر پر مشتمل مسلح بریگیڈز بنانا اور ایک حملہ آور ایلیٹ فورس تشکیل دینا ہے جو اسرائیل کے خلاف درجنوں حملوں کی ذمے دار ہے۔

اسرائیلی دستاویزات کے مطابق حماس کی جانب سے پہلے مرحلے میں تیار کیے جانے والے گائیڈڈ راکٹوں کی پہنچ 20 کلو میٹر تک ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حماس لڑائی کے دو ادوار میں لبنان سے اسرائیل پر 200 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی طرح حماس نے دیگر پلان بھی وضع کیے ہیں۔ ان میں 122 ایم ایم کے مارٹر گولوں کی تیاری شامل ہے۔ ان گولوں کو ٹائمر کے ذریعے خود کار طور پر فائر کیا جا سکتا ہے۔

معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حماس تنظیم اس وقت خود کو لبنان میں محض ایک مہمان شمار نہیں کرتی ہے بلکہ اس کے نزدیک یہ ایک نیا محاذ ہے جس کو آئندہ غزہ کی پٹی میں کسی مقابلے کی صورت میں اسرائیل کے خلاف فعال کیا جا سکتا ہے۔

عسکری ذرائع نے واضح کیا تھا کہ دھماکے کی جائے وقوع یعنی برج الشمالی میں گولہ بارود و اسلحے کا گودام وہ حماس تنظیم کے زیر انتظام ہے۔ اگرچہ حماس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دھماکا گودام میں ہونے والے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ ہے اور اس گودام میں کرونا کے مریضوں کے لیے مختص آکسیجن سلینڈر رکھے ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ لبنان کے جنوب ، شمال ، البقاع اور بیروت میں واقع 12 کیمپوں میں فلسطینی پناہ گزین موجود ہیں۔ تاہم حماس کی سیکورٹی اور عسکری موجودگی بنیادی طور پر جنوبی کیمپوں میں پائی جاتی ہے۔ یہاں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا سیکورٹی اور عکسری کنٹرول ہے۔

متعدد فلسطینی گروپوں پر مشتمل فلسطینی سپریم سیکورٹی کمیٹی ان پناہ گزین کیمپوں کی نگرانی انجام دیتی ہے۔ اس سلسلے میں اسے لبنان میں فلسطینی سفارت خانے اور لبنانی حکام کے ساتھ رابطہ کاری اور تعاون حاصل ہے۔ البتہ حماس تنظیم مذکورہ کمیٹی کا حصہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس دیگر گروپوں سے مختلف سیکورٹی ذمے داریاں ہیں۔

سال 2011ء سے حزب اللہ اور حماس نے ایران اور شام کے ساتھ زیادہ وسیع اتحاد کے دائرے میں تعاون کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں