سعودی عرب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائل بنا رہا ہے: امریکی ایجنسیوں کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اب چین کی مدد سے اپنے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر کام کررہا ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کی اس رپورٹ کی خبر جُمعرات کو امریکی ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ پر نشر کی گئی تھی۔

دو باخبر ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کمیٹی سمیت متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں کے امریکی حکام کو حالیہ مہینوں میں خفیہ انٹیلی جنس پر بریفنگ دی گئی ہے جس میں چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔

’سی این این‘ کی جانب سے حاصل کردہ نئی سیٹلائٹ امیجز میں اشارہ ملتا ہے کہ سعودی عرب پہلے ہی چینی مدد سے قائم کی گئی جگہ پر بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنہوں نے تصاویر اور ذرائع کا تجزیہ کیا انہوں نے تصدیق کی کہ وہ تازہ ترین امریکی انٹیلی جنس تشخیص کے مطابق پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔

" آتشیں گڑھا"

نئی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب اب اس جگہ پر بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔ مڈل بیری انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اور اسلحہ کے امور کے ماہر پروفیسر جیفری لیوس کے مطابق اہم ثبوت یہ ہے کہ یہ سہولت بیلسٹک میزائل کی تیاری سے ٹھوس ایندھن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک "آتشیں گڑھا"قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کاسٹ شدہ راکٹ انجن پروپیلنٹ کی باقیات پیدا کرتے ہیں جو ایک دھماکہ خیز خطرہ ہے۔ ٹھوس پروپیلنٹ کی پیداواری سہولیات میں اکثر آگ کے گڑھے ہوتے ہیں جہاں بقایا ایندھن کو آگ کے ذریعے ضائع کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی دانشور نے کہا کہ زیر بحث تنصیب چینی مدد سے تعمیر کی گئی تھی اور انٹیلی جنس کے نئے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں چین سے حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی خریدی ہے۔ امکان ہے کہ وہاں بنائے گئے میزائل چینی ڈیزائن کے ہیں۔

لیوس نے کہا کہ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیار کرنے میں مدد کے لیے دوسرے ممالک کی طرف رجوع کیا ہےجس سے یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مملکت اب اس سہولت پر کون سا ہتھیاروں کا نظام بنا رہی ہے۔

"تعاون بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں"

دریں اثنا’سی این این‘ نیٹ ورک کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا چین اور سعودی عرب کے درمیان حساس بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کی کوئی منتقلی ہوئی ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں CNN کو بتایا کہ دونوں ممالک "جامع اسٹریٹجک پارٹنر" ہیں۔ ہم ہر پہلو میں دوستانہ تعاون شعبوں بشمول فوجی تجارتی میدان میں بھی تعاون بر قراررکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاؤ شامل نہیں ہے۔

درایں اثنا بحرین میں سابق امریکی سفیر ایڈم ایریلی نے ٹویٹر پر اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے لیے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینا اچھا ہے۔ وہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید اگر ہم مشرق وسطیٰ میں ایک مربوط اور مستقل پالیسی رکھتے اور اتحادیوں کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے تو ایسا نہ ہوتا۔

سی این این نے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ماضی میں چین سے بیلسٹک میزائل خریدے ہیں لیکن تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف تین ذرائع کے مطابق وہ اب تک اپنے میزائل بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں