اگر میں سفید فام مرد ہوتی تو میڈیا کی کوریج مختلف ہوتی: امریکی خاتون نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نےمیڈیا میں اپنے ساتھ امتیازی سلوک برتے جانے کا شکوہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کی کوریج میں ان کے ساتھ ہونے والا سلوک ان کے خاتون اور سفید فام نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ سفید فام اور مرد ہوتیں تو ان کی خبروں کی کوریج مختلف ہوتی۔

انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو بتایا کہ ایسے مسائل ہیں جن پر وہ قابو نہیں پا سکتی، جیسے کہ جنوبی سرحد کا بحران اور ملک میں ووٹنگ کے حقوق۔

ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری پیٹ بٹگیگ نے امریکی اخبار کو بتایا کہ میرے خیال میں یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ اس سے جن مختلف کاموں کو کرنے کے لیے کہا گیا ہے اس کے لیے بہت سے مطالبات، بہت زیادہ کام کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ مہارت کی ضرورت ہے۔"

کیلی فورنیا کے ڈیموکریٹ رکن کانگریس کیرن باس نے بھی واضح کیا کہ انتظامیہ کو منفی میڈیا کوریج کے درمیان نائب صدر کا زیادہ زور سے ساتھ دینا چاہیے تھا۔

پچھلے مارچ میں صدر جو بائیڈن نے ہیرس کو تارکین وطن کی آمد کی فائل سونپ دی تھی جو جنوبی سرحد کو گھیرے ہوئے تھے۔ انہیں میکسیکو کے ساتھ بات چیت کا ٹاسک دیا گیا۔

اس کے بعد نائب صدر کو سرحد کا دورہ کرنے کے لیے تقریباً تین ماہ انتظار کرنے اور ان کے جوابات کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب یہ پوچھا گیا کہ وہ امریکا میکسیکو سرحد پر جلد کیوں نہیں گئیں۔

اس کے برعکس ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہنری کیولر نے دی ٹائمز کو بتایا کہ ہیرس کی ٹیم کے ساتھ ان کا تجربہ مایوس کن تھا۔

میں انہیں پورے احترام کے ساتھ بتاتا ہوں کہ انہیں جو سونپا گیا ہے۔ وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتی، اس لیے ہم اس کیس پر کام کرنے والے دوسرے لوگوں کے پاس جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں