ایران کے بیلسٹک میزائل علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے جمعے کے روز ایران کی جانب سے اس ہفتے ہونے والی جنگی مشقوں میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "یہ کارروائیاں علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں فوری طور پر بند کردے۔"

ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے جمعے کے روز اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے زمین سے سے زمین پر مار کرنے والے 16 بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

ایجنسی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میزائل "عماد"، "قدر"، "سجیل"، "زلزال"، "دزفول" اور "ذوالفقار" ماڈلز کے تھے، جن کی رینج 350 سے 2000 کلومیٹرتک ہے۔ .

ایران کے مطابق مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل خطے میں امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ

اس حوالے سے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری نے کہا کہ پہلے سے طے شدہ مشقیں ایران کو اسرائیل کی حالیہ دھمکیوں کا جواب ہیں۔

اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔امریکا اور عالمی برادری کو اس پر سخت موقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن ہے۔

پاسداران انقلاب نے ماضی میں کہا ہے کہ ان کے پاس ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے کروز میزائل ہیں اور ان کے پاس دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل بھی ہیں۔

ایران وقتاً فوقتاً جنگی مشقوں کا انعقاد کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اپنی افواج کی تیاری کو بہتر بنانا اور نئے ہتھیاروں کا تجربہ کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں