خرطوم:صدارتی محل کے قریب مظاہرین پراشک آورگیس کی شیلنگ،انٹرنیٹ سروس معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کی سیکورٹی فورسز نے ہفتے کے روز دارالحکومت خرطوم میں صدارتی محل کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین کومنتشرکرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے فائرکیے ہیں جبکہ شہر میں انٹرنیٹ سروس کومنقطع کر دیاگیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دارالحکومت خرطوم میں انٹرنیٹ سروس میں خلل پڑا ہے جس کے وجہ سے مقامی لوگ گھروں میں کالیں کرنے یا وصول کرنے سے بھی قاصر تھے۔

تاہم انٹرنیٹ سروس منقطع ہونے کے باوجود لوگ بعض شہروں میں مظاہروں کی تصاویرسوشل میڈیا پرپوسٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ان تصاویر میں مدنی اوراعتبارا سمیت کئی شہروں میں احتجاج دکھایا گیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فوج اورسریع الحرکت فورسز نے خرطوم کو دریائے نیل کے پاراس کے جڑواں شہرام درمان سے ملانے والے پلوں کی طرف جانے والی سڑکیں بند کردی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے مظاہروں کو محدود رکھنے کے لیے دن کے اوائل میں سڑکیں بند کردیتھیں۔

خرطوم کی صوبائی سلامتی رابطہ کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ شہر کے وسط میں واقع خودمختار اور تزویراتی مقامات کی جانب پیش قدمی اوران میں دراندازی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس نے مزید کہا کہ افراتفری اور طوائف الملوکی سے نمٹا جائے گا۔

خرطوم میں انٹرنیٹ سروس کی فراہم کنندہ ایک کمپنی کے سینیرعہدہ دار نے بتایا کہ سروس میں خلل نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے فیصلے کے بعد پیدا ہوا ہے۔یہی کارپوریشن ٹیلی مواصلات کی نگرانی کرتی ہے۔

سوڈانی مظاہرین گذشتہ 10ہفتوں سے 25اکتوبر کو جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔خبررساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں مظاہرین احتجاج کے لیے صدارتی محل کے قریب جمع ہوئے تھے۔صدارتی محل میں فوجی حکومت کے صدردفاترقائم ہے۔

سوڈانی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ اتوار کوخرطوم اور اس کے جڑواں شہرام درمان میں احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا اوران کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے دوافراد اسپتال میں جان کی بازی ہارگئے تھے۔

وزارتِ صحت نے تشدد کے واقعات میں 125مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ان میں سے بہت سے افراداشک آور گیس سے متاثر ہوئے تھے اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سوڈانی مظاہرین ہر ہفتے ملک کے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔ان کی قیادت میں فوج وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت معزول کردی تھی اور خود اقتدار سنبھال لیا تھا۔تاہم فوجی قیادت نے 21 نومبر کو وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو ایک معاہدے کے تحت بحال کردیا اور بعض سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اب ان کے لیے پیچھے ہٹنا ناممکن ہے۔وہ ملک میں جلد ایک سیاسی حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے مظاہرین فوجی بغاوت کے خلاف گذشتہ نواحتجاجی ریلیوں کے بعد پہلی مرتبہ صدارتی محل کے دروازوں پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔سکیورٹی فورسز نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے اور بعض جگہوں پر فائرنگ کی تھی۔

سوڈانی ڈاکٹروں کی کمیٹی کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران میں ملک بھر میں سڑکوں پر ہونے والی جھڑپوں اور پُرتشدد مظاہروں میں 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ اتوار کواحتجاجی مظاہرے میں شریک دوخواتین مظاہرین کو زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیاتھا۔ان میں سے ایک متاثرہ خاتون نے حکام کے پاس رپورٹ درج کرادی تھی جبکہ دوسری خاتون نے قانونی کارروائی سے انکارکردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں