نائب صدر بننے کے بعد سے ہیرس کی سب سے بڑی ناکامی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ایک نئے انٹرویو میں کہا کہ دفتر میں ان کی اب تک کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انہیں واشنگٹن سے باہر جانے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔

’سی بی ایس‘ نیوز کی مارگریٹ برینن کے ایک سوال کے جواب میں نائب صدر کے طور پر ان کی اب تک کی سب سے بڑی ناکامی کے بارے میں ہریس نے کہا کہ ’دارالحکومت سے باہر نہ نکل پانا ان کی بڑی ناکامی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے حقوق، بچوں کی دیکھ بھال اور زچگی کی صحت سمیت متعدد اہم امور پر جو کام وہ کر رہی ہیں اس سے "براہ راست متاثر" امریکیوں سے بات کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ جاننے اور یقین کرنے کا حق ہے کہ ان کی حکومت حقیقت میں انہیں دیکھتی اور سنتی ہے۔ میری سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ لوگوں کوکسی بھی لمحے کی ضرورت کے بارے میں آگاہی اور رابطے زیادہ ضرورت ہوتی ہے مگر میں لوگوں کے ساتھ زیادہ رابطہ نہیں رکھ پائی۔

نائب صدر نے کہا کہ جب انہوں نے اور صدر بائیڈن نے عہدہ سنبھالا تو COVID-19 پہلے ہی امریکیوں کو متاثر کر رہا تھا اور اس کے نتیجے میں کہا کہ وہ اور بائیڈن "واقعی سفر نہیں کر سکتے۔"

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق ہیریس نے اپنے پہلے سال کے دوران امریکا اور بین الاقوامی سطح پر کئی بار جارجیا، پنسلوانیا، وسکونسن اور جنوبی سرحدوں کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ گوئٹے مالا، میکسیکو، ویت نام، سنگاپور اور پیرس کے بھی دورے کیے۔

تاہم دفتر میں ان کے پہلے سال میں بعض اوقات مختلف سیاسی مشکلات کا غلبہ رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں