ترکی:حزبِ اختلاف کے زیرانتظام بلدیہ استنبول کےعملہ سےجنگجوگروپوں سے روابط کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی نے حزب اختلاف کے زیرانتظام بلدیہ استنبول کے عملہ کے سیکڑوں ملازمین سے عسکریت پسند گروہوں سے روابط کے الزام میں تحقیقات کا آغازکر دیا ہے جبکہ شہر کے میئر نے اس تحقیقاتی عمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

میئراکرم امام اوغلو کا تعلق حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) سے ہے اور انھیں صدر رجب طیب ایردوآن کے ممکنہ چیلنجر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ترکی میں 2016ء میں ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں بڑے پیمانے پرکریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور اس میں عسکریت پسندوں سے روابط کے الزام میں ہزاروں افراد سے تحقیقات کی گئی ہیں اوران پر مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے کو ختم کرنے کے بہانے کے طورحکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کیاگیا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ترکی کو درپیش خطرات کی سنگینی کے پیش نظراس طرح کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزارت داخلہ نےاتوارکے روز ٹویٹر پر کہا کہ اس نے بلدیہ میں کام کرنے والے 455 افراد اور کرد عسکریت پسندوں سے تعلق رکھنے والی متعلقہ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔ان کے ساتھ مبیّنہ طور پر بائیں بازواور دیگرگروپوں سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زیادہ افراد منسلک ہیں۔

ترک وزیرداخلہ سلیمان سوئلو نے کہاکہ تحقیقات کا رُخ خود سٹی کونسل کی طرف نہیں تھا۔ہمارا کسی بلدیہ کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ہمارا کام تو دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے اور ہمیں ترکی کو چوکس رکھنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقات کی زد میں آنے والےافراد سڑکوں کی صفائی ہی پرمامور نہیں یا وہ صرف جھاڑو نہیں دیتے ہیں بلکہ بعض سینیرعہدوں پر بھی فائز ہیں۔

امام اوغلو نے ٹویٹر پر جاری کردہ وزارت کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پتاچلتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی،ان کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’آپ بہت سے (مشتبہ افراد) دیکھتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں اور پھر تحقیقات شروع کرتے ہیں۔ یہ کس طرح کی تحقیقات ہیں؟ اگرآپ پہلے ہی کسی فیصلے پر پہنچ گئے ہیں تو انھیں کان سے پکڑ جیل لے جائیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ وزارت نے تفتیش کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ عملہ کو ملازمت دینے کے لیے بلدیہ کے طریق کار میں یہ جانچنا بھی شامل ہے کہ درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں۔

ترکی میں رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے پتاچلتا ہے کہ صدر ایردوآن کی مقبولیت چھے سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور وہ 2023ء میں ہونے والے انتخابات میں ممکنہ صدارتی حریفوں سے ہار سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں