ماہرین اور ہتھیاروں سے حوثیوں کے لیے حزب اللہ کی مدد کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے یمن کے بحران کے بارے میں ایک جامع بریفنگ میں۔ اس بریفنگ میں یمن میں لبنانی دہشت گرد حزب اللہ کے ملوث ہونے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے ہوائی اڈے کے استعمال کے ثبوت پیش کیے گئے۔ عرب اتحاد نے حزب اللہ کے ارکان کی تصاویر دکھائیں جو حوثی ملیشیا کو ڈرون حملوں کی تربیت دے رہے تھے۔

یمن میں لبنانی حزب اللہ کی مداخلت حیران کن نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں حزب اللہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت سے حوثی ملیشیا کو تربیت دینے کے لیے متعدد ماہرین بھیجے۔

حزب اللہ ملیشیا جسے ایک سے زیادہ ممالک میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے ایک عسکریت پسند گروپ کے سوا کچھ نہیں۔ اسے ایران یمن اور لبنان پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یمن میں لبنانی حزب اللہ کی موجودگی نہ تو نئی ہے اور نہ ہی عجیب بات ہے۔ 24 فروری 2016 کو ایک ویڈیو کلپ میں حزب اللہ کے ایک رہ نما کو حوثی ملیشیا کے عناصر کو ٹریننگ دیتے وقت انہیں سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

لبنان کی وادی بقاع سے آنے والے اس حزب اللہ ایکسپرٹ کا کہناتھا کہ اس کے پاس "ریاض کے دل میں خصوصی آپریشن" منصوبہ ہے۔

لبنانی اخبار النہار نے گذشتہ اپریل میں انکشاف کیا تھا کہ حزب اللہ نے شمالی اور جنوبی بقاع میں اپنے کیمپوں میں حوثی عناصر کو تربیت دی تھی۔

18 نومبر کو یمن میں سرگرم عرب اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے ایک خفیہ تنصیب کو نشانہ بنایا ہے جس میں ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ ایک وسیع آپریشن تھا جو یمن کی چار گورنریوں میں کیا گیا تھا۔

یمن میں حزب اللہ کے ملوث ہونے کے شواہد ختم نہیں ہوئے۔ یمنی وزیر اطلاعات نے 17 روز قبل مآرب گورنری میں فوج کی بمباری میں "اکرم السید" نامی حزب اللہ کمانڈر کی ہلاکت کا انکشاف کیا تھا۔ اس آپریشن میں حوثی ملیشیا کے متعدد جنگجو بھی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں