ترکی:کتب کی دکان پرتصادم کے بعد داعش سے روابط کے الزام میں 16 افرادگرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی میں پولیس نے منگل کے روزداعش سے روابط کے الزام میں 16 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔قبل ازیں بغیر لائسنس مذہبی کتب کی دکان بندکرنے کی کوشش کرنے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر مظاہرین نے لاٹھیوں اور پتھروں سے دھاوابول دیا تھا۔

جنوب مشرقی شہربنگول کے گورنرکے دفتر نے بتایا کہ پولیس نے رات کے وقت دکان بندکرنے کی کوشش کی تھی۔اس دکان کے ذریعے ملک میں داعش کی سرگرمیوں کی حمایت کی جارہی تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسزپرلاٹھیوں اور پتھروں کا استعمال کرتے ہوئے حملے کیے گئے ہیں اورپھر پولیس کی ٹیموں نے مداخلت کی ہے۔ملزمان کو قانون نافذ کرنے والے افسروں پرحملہ آور ہونے،جان بوجھ کرزخمی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں حراست میں لیاگیاہے۔

کتب کی دکان پرآپریشن کی فوٹیج میں دیکھاجاسکتا ہے کہ درجنوں افرادلاٹھیوں کا استعمال کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کررہے ہیں جبکہ بندوقوں کی گولیوں کی آواز سنی جاسکتی ہے۔

یادرہے کہ داعش نے یکم جنوری 2017ء کواستنبول میں ایک نائٹ کلب سمیت ترکی بھرمیں متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان حملوں میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ترکی میں بڑے پیمانے پرکریک ڈاؤن کیا گیا ہے اور عسکریت پسندوں سے روابط کے الزام میں ہزاروں افراد سے تحقیقات کی گئی ہیں،ان پرمقدمات چلائے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں کریک ڈاؤن کواختلاف رائے کوختم کرنے کے بہانے کے طور پراستعمال کیا گیا ہے جبکہ صدررجب طیب ایردوآن کی حکومت نے کہا ہے کہ ترکی کو درپیش خطرات کی سنگینی کے پیش نظراس کے اقدامات ضروری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں