صومالی صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختیارات کا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صومالی صدر محمد عبداللہ محمد نے ملکی وزیراعظم کے اختیارات معطل کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا بدعنوانی کے ایک معاملے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ملکی نائب وزیر اطلاعات نے صدر کے عمل کو ’بالواسطہ بغاوت‘ کے برابر قرار دیا ہے۔

صومالی صدر محمد عبداللہ محمد نے وزیر اعظم محمد حسین روبلی پر الزامات عائد کیے ہیں کہ انہوں نے صومالی نیشنل آرمی کی ملکیتی عوامی زمین کو لوٹنے کی کوشش کی اور اس کے علاوہ انہوں نے وزارت دفاع کی طرف سے جاری تحقیقات میں بھی دخل اندازی کی۔ صدر کے مطابق وزیراعظم کے علاوہ بقیہ تمام وزیر اپنی ذمہ داریاں بدستور نبھاتے رہیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صومالی وزیراعظم محمد حسین روبلی تو ان الزامات کا جواب دینے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے تاہم ان کے ایک ترجمان محمد ابراہیم ماؤلیمو نے فیس بُک پر لکھا کہ صدر کا یہ اقدام غیر آئینی ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

صومالی صدر محمد عبداللہ محمد کے مطابق انہوں نے بحری افواج کے کمانڈر جنرل عبدی حامد دریر کو بھی ان کے عہدے سے الگ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ جنرل عبدی حامد کے خلاف بھی اسی طرح کے الزامات کے تحت تحقیقات کا سلسلہ چل رہا تھا۔ رائٹرز کے مطابق دریر یا ان کے ترجمان سے بھی اس حوالے سے ردعمل جاننے کے لیے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

صومالی وزیراعظم محمد حسین روبلی صدر کی طرف سے عائد کردہ الزامات کا جواب دینے کے لیے دستیاب نہیں ہو سکے۔

صومالیہ کے نائب وزیر اطلات عبدالرحمان یوسف عمر ادالہ کے بقول وزیر اعظم روبلی کے دفتر کے باہر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، روبل کو ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے نہیں روک سکے گی۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک پر لکھا، ''آج صبح سے جو کچھ ہو رہا ہے، یہ ایک بالواسطہ بغاوت ہے۔ مگر یہ کامیاب نہیں ہو گی۔‘‘

رواں برس ستمبر میں صدر محمد عبداللہ محمد نے وزیر اعظم روبلی کے سرکاری حکام کو رکھنے یا ہٹانے کے اختیارات کو ختم کر دیا تھا۔ یہ پیش رفت قتل کے ایک مقدمے کی تحقیقات کے بعد سامنے آئی تھی جس نے ملک میں کئی ماہ تک تناؤ پیدا کیے رکھا تھا۔

محمد عبداللہ محمد اور محمد حسین روبلی کے درمیان پہلا تنازعہ رواں برس اپریل میں ہوا تھا جب صدر نے اپنے طور پر اپنی چار سالہ مدت صدارت کو مزید دو برس کے لیے بڑھا لیا تھا اور اس کے بعد فوج میں ان دونوں شخصیات کے وفادار چھوٹے گروپ دارالحکومت موغادیشو میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔

یہ تنازعہ اس وقت ختم ہوا جب صدر نے روبلی کو سکیورٹی کا انچارج مقرر کیا اور ملک میں قانون ساز اسمبلی اور صدارتی انتخابات کرانے پر اتفاق کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں