افغانستان میں آسمان سے گرتے انسانی اجسام دنیا کو مدتوں یاد رہیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سال 2021ء میں بہت کم ممالک میں افغانستان جیسی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ یہاں امریکی فوج کا انخلا عمل میں آیا اور انسانی بحران میں ڈوبے ملک پر طالبان تحریک کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔

دنیا کو وہ مناظر مدتوں یاد رہیں گے جب کابل کے ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والے آخری طیاروں کے بیرونی حصوں پر چڑھے افراد فضا سے نیچے گرے۔ یہ طیارے افغانستان سے فرار اختیار کرنے والے افغان شہریوں کو لے کر بیرون ملک کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

رواں سال اگست کے وسط میں ملک پر طالبان کا کنٹرول ہو جانے کے کئی ماہ بعد ابھی تک بہت سے افغان یہ سوال کرتے ہیں کہ آخر کار ہوا کیا ہے اور مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔

افغان تحریک طالبان کے لیے مرکزی چیلنج اپنے اکثر ان پڑھ جنگجوؤں کو ایسی انتظامی قوت میں تبدیل کرنا ہے جو ایک پیچیدہ ملک کی قیادت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ شہریوں کے حوالے سے غذا، رہائش اور روزگار اولین ترجیحات ہیں۔

ایک مغربی خاتون تجزیہ کار کائٹ کلارک کا کہنا ہے کہ "حکومت کی تبدیلی کے نتائج فوری اور بھیانک رہے"۔ یہ تجزیہ "افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک" کی جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آیا۔ کائٹ نے واضح کیا کہ "طالبان کو عسکری فتح بہت جلد حاصل ہو گئی جب کہ ابھی انہوں نے بیرونی مدد کے بغیر ملک کا انتظام چلانے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ اب طالبان ایک ایسی ریاست کے حکمران ہیں جس کی آمدنی بڑی حد تک محدود ہے اور اس کی آبادی 4 کروڑ افراد کے قریب ہے"۔

یاد رہے کہ اگست کے وسط میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد چند ہفتوں میں 1.2 لاکھ افغان شہری کابل ہوائی اڈے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔ ان میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہوں نے غیر ملکی کمپنیوں یا بیرونی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے 20 برس تک اُن اربوں ڈالروں کے انتظامی امور میں حصہ لیا جن کے ذریعے 20 برس تک ریاست کے بجٹ کو بڑی حد تک سپورٹ ملی۔

تاہم اب یہ امداد روک دی گئی ہے۔ اس کے سبب طالبان کو ایک تاریک مستقبل کا سامنا ہے جہاں اسے اپنے خصوصی وسائل ، ٹیکسوں اور کسٹم کی آمدنی پر گزارہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

طالبان کو اندرون اور بیرون ملک میں اس بات پر قائل کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے کہ وہ اپنے گذشتہ دور حکومت (1996ء -2001ء) کے مقابلے میں زیادہ کشادہ دلی اور روشن خیالی کا مظاہرہ کریں گے۔ طالبان کے سابقہ دور میں خواتین کو شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں