افغانستان وطالبان

رینا امیری افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے خصوصی ایلچی نامزد

رینا دو دہائیوں سے یو این، حکومتوں اور تھنک ٹینکس کو افغانستان کے متعلق مسائل پر مشورے دے رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا نے طالبان کی جانب سے پابندیوں میں اضافے کے ساتھ ہی ترجیحی بنیادوں پر کوششیں تیز کرتے ہوئے افغان خواتین کے حقوق کے دفاع کے لیے رینا امیری کو سفیر مقرر کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں دفتر خارجہ میں خدمات انجام دینے والی افغان نژاد امریکی رینا امیری افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے خصوصی سفیر کا کردار ادا کریں گی۔

اینٹنی بلینکن نے مزید کہا کہ امیری ’میرے لیے انتہائی اہم‘ اور صدر جو بائیڈن کی باقی انتظامیہ کے مسائل پر توجہ دیں گی۔ بلینکن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم پرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کے خواہش مند ہیں جہاں تمام افغانوں کو سیاسی، معاشی اور سماجی شمولیت کا حق حاصل ہو اور وہ ترقی کر سکیں۔

خصوصی سفیر رینا امیری کون ہیں؟

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رینا امیری سابق صدر براک اوباما کے دور میں افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی کی سینیئر مشیر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ وہ دو دہائیوں سے حکومتوں، اقوام متحدہ اور تھنک ٹینکس کو افغانستان کے متعلق مسائل پر مشورے دے رہی ہیں۔

رینا امیری کا خاندان ان کے بچپن میں ہی افغانستان چھوڑ کر کیلیفورنیا میں آباد ہو گیا تھا۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی جنگ شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں طالبان کے زیر اقتدار رہنے والے افغانوں خصوصاً خواتین کے بارے میں کھل کر بات کرنا شروع کر دی تھی۔

وہ امریکی سفارت کار رچرڈ ہالبروک کی مشیر بن گئیں، جن کی آخری ذمہ داری افغانستان اور پاکستان کے متعلق تھی اور انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔

اپنی تقرری سے کچھ دیر قبل رینا امیری نے ٹوئٹر پر لکھا: ’مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ دنیا کو یہ یقین دلا کر دوبارہ طالبان کو لائے تھے کہ وہ بدل گئے ہیں، وہ طالبان کی جانب سے خواتین کے خلاف پسماندہ اور سخت پالیسیوں کی بحالی کی وضاحت کیسے کرتے ہیں۔‘

ایک حالیہ مضمون میں رینا امیری نے زور دیا ہے کہ طالبان حکومت کو سفارتی طور پر قبول کیے بغیر ان کے ساتھ ’اصولی لیکن عملی سفارتی بات چیت‘ ہونی چاہیے۔

رینا امیری نے ستمبر میں ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’امریکہ اور یورپ کو اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو نکالنے اور انسانی رسائی کو مربوط کرنے کے مقاصد کے لیے طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے سے آگے بڑھنا چاہیے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’صرف انسانی امداد سے تباہ حال معیشت، بنیاد پرستی اور عدم استحکام کو نہیں روکا جا سکے گا۔‘

’’غیر ملکی افغانوں کے زخموں کا مرہم نہیں‘‘

رینا امیری کی تقرری کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اسلامی امارت افغانستان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اجنبی ہمارے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ اگر وہ کر سکتے تو وہ گذشتہ 20 سالوں میں ایسا کرسکتے تھے۔‘

انہوں نے امداد کو انسانی حقوق سے جوڑنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنی اسلامی اقدار اور قومی مفادات کی روشنی میں اپنے عوام کے لیے غیر مشروط امداد چاہتے ہیں۔‘

طالبان اور خواتین

طالبان نے 1996 سے 2001 تک اپنی حکومت میں، جسے امریکہ نے حملہ کرکے ختم کردیا تھا، افغانستان میں انتہائی سخت نظام نافذ کیا تھا جس میں خواتین پر کام کرنے اور لڑکیوں پر تعلیم کے متعلق پابندیاں بھی شامل تھیں۔

بعد ازاں رواں برس اگست میں امریکی انخلا کے دوران اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آنے والے طالبان نے وعدوں کے باوجود بہت سی خواتین کو کام پر واپس جانے اور لڑکیوں کو تعلیم سے روک دیا ہے۔

اتوار کو طالبان نے کہا تھا کہ خواتین کو محرم کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس سے قبل افغانستان میں ایک وزارت نے ٹیلی ویژن چینلز سے کہا تھا کہ وہ خواتین اداکاروں پر مشتمل ڈرامے دکھانا بند کریں اور خواتین صحافیوں سے سکارف پہننے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب افغان خواتین عوامی سطح پر مظاہروں کے ذریعے اپنی آواز اٹھا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں