امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کے امکان کا قائل ہوں : روسی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے باور کرایا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ "مؤثر" بات چیت کے امکان کے قائل ہیں۔ پوتین کا یہ موقف امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے ساتھ مقررہ ٹیلی فونک رابطے سے چند گھنٹے قبل آج جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ یوکرین کے حوالے سے روس اور مغرب کے بیچ تناؤ پایا جا رہا ہے۔ پوتین نے ایک ٹیلی گرام میں لکھا کہ "میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہمارے لیے آگے بڑھنا اور ایک ایسا روسی امریکی مؤثر مکالمہ ممکن ہے جو متبادل احترام اور ہم میں سے ہر کسی کے قومی مفادات کی رعائت پر مبنی ہو"۔ یہ بات کرملن ہاؤس نے بتائی۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے بتایا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے درمیان آج جمعرات کے روز بات چیت ہو گی۔ یہ بات چیت واشنگٹن کی جانب سے اپنے حلیفوں کے ساتھ کام جاری رکھنے کی کوشش کے سلسلے میں ہے۔ اس کا مقصد یوکرین کی سرحد پر روسی عسکری کمک پر مشترکہ رد عمل سامنے لانا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں سربراہان کے درمیان مقررہ بات چیت گرینچ کے وقت کے مطابق رات 8:30 پر ہو گی۔

واضح رہے کہ یوکرین کی سرحد پر روس کے اکٹھا ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کے سبب اندیشہ پھوٹ رہے ہیں کہ ماسکو یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

ماسکو گذشتہ دو ماہ سے یوکرین کی سرحد پر ہزاروں فوجی اکٹھا کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک کو شدید پریشانی لاحق ہے۔ روس 2014ء میں یوکرین کے جزیرہ نما قرم پر قبضہ کر چکا ہے۔ وہ یوکرین کے مشرق میں سرکاری فوج کے خلاف لڑنے والے علاحدگی پسندوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

امریکی فضائیہ کے ایک E-8C طیارے نے پیر کے روز یوکرین کے مشرقی حصے کے اوپر خفیہ سروے مشن کے سلسلے میں پرواز کی۔

یورپ میں امریکی عسکری کمان کے ترجمان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب علاقے میں اس طیارے نے پرواز کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں