اوپیک پلس کا 4 جنوری کے اجلاس میں موجودہ پیداواری پالیسی برقرار رکھنے کاامکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم(اوپیک) اور اس کے اتحادی ممالک اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں ممکنہ طور پرتیل کی ماہانہ پیداوار میں معمولی یومیہ اضافے کی اپنی موجودہ پالیسی کو برقراررکھیں گے کیونکہ کرونا وائرس کے اومیکرون متغیّر کے تناظر میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بحالی کی جانب گامزن ہیں۔

چار ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کے نام سے معروف تنظیم اور اس کے اتحادی ممالک 4 جنوری کو یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا فروری کے لیے 400,000 بیرل یومیہ پیداوار میں اضافہ جاری رکھا جائے گا یا نہیں۔اوپیک پلس نے گذشتہ سال ریکارڈ کٹوتیوں کے بعد یومیہ پیداوار میں اضافہ کیا تھا۔

اوپیک پلس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ’’اس وقت میں نے فیصلہ تبدیل کرنے کے کسی اقدام کے بارے میں نہیں سنا ہے‘‘۔روس کے شعبہ تیل کے ذرائع اور اوپیک پلس کے دو دیگر ذرائع نے بھی بتایا کہ اگلے ہفتے اس معاہدے میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔

اوپیک پلس نے دودسمبر کومنعقدہ اپنے گذشتہ اجلاس میں جنوری میں 4لاکھ بیرل یومیہ پیداوار میں اضافے کے فیصلے کو جاری رکھنے سے اتفاق کیا تھا۔ اس نے اس خدشے کے باوجود یہ فیصلہ کیا تھاکہ خام تیل کے ذخائرکے اجرا سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

26 نومبر کوجب کرونا وائرس کی نئی شکل کی اطلاعات پہلی بار سامنے آئی تھیں تو بینچ مارک تیل کی قیمت 10 فی صد سے زیادہ گرگئی تھی اور یہ 72 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد یہ قریباً 80 ڈالر تک بحال ہو گئی ہے۔ اوپیک پلس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر میں عالمی مارکیٹ میں رسد کو فروغ دینے کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ درست تھا۔

روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈرنوواک نے بدھ کے روز کہا تھاکہ اوپیک پلس نے پیداوار میں مزید اضافے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبات کی مزاحمت کی ہے کیونکہ یہ گروپ مارکیٹ کو واضح رہنمائی فراہم کرنا چاہتا ہے اور پالیسی سے انحراف نہیں کرنا چاہتا ہے۔

امریکا نے اپنے ہاں گیسولین کی قیمتوں میں اضافے اور صدر جوبائیڈن کی مقبولیت میں کمی کے پیش نظر اوپیک پلس پرباربار پیداوار میں اضافے میں تیزی لانے پر زوردیا ہے لیکن اوپیک کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنے کے بعد واشنگٹن نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ اور دیگر ممالک صارفین کے لیے اپنے تیل کے ذخائر جاری کردیں گے۔

تاہم روسی نائب وزیراعظم نوواک کا کہنا ہے کہ امریکا کے اسٹریٹجک ذخائر کے ممکنہ اجراء سے مارکیٹ پر محدود قلیل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔

اوپیک کے وزراء اس بات پر بھی تبادلہ خیال کرنے والے ہیں کہ محمد برکیندو کی جگہ گروپ کا نیا سیکرٹری جنرل کون ہوگا۔وہ آیندہ سال جولائی کے آخر میں عہدے سے سبکدوش ہونے والے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ کویت کے امیدوار کو تنظیم کے سیکریٹری جنرل کےعہدے کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں