یمن اور حوثی

یمن میں میرے والد کا مشن امام مہدی کے ظہور کا پیش خیمہ تھا : علی ایرلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی ملیشیا کے ہاں ایرانی سفیر حسن ایرلو کے بیٹے کے اپنے متوفی والد کے مشن کے حوالے سے حالیہ بیان نے وسیع تنازع پیدا کر دیا ہے۔ ایرلو کے بیٹے نے دعوی کیا ہے کہ "یمن میں خدمات کے سلسلے میں ایرلو کے افعال ،،، مہدی منتظر کے ظہور کا پیش خیمہ تھا"۔

ادھر ایرلو کے بیٹے کے بیان پر یمن کی جانب سے پہلے سرکاری تبصرے میں یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بدھ کے روز کہا کہ "علی ایرلو کی بات اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ اس کے والد کی صنعاء میں موجودگی ایران کی جانب سے نمائندے کے طور پر تھی تا کہ وہ باغی حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں عسکری حاکم بن جائے"۔

الاریانی نے مزید کہا کہ ایرلو کا کام حوثیوں کی خدمت اور فرقہ واریت، سیاست اور عسکریت کے زاویوں سے اس کے ایجنڈے پر عمل درامد کرنا بھی تھا۔

علی ایرلو کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی القدس فورس کے سابق سربراہ قاسم سلیمانی (جو جنوری 2020ء میں بغداد میں مارا گیا تھا) نے سفیر حسن ایرلو کی یمن روانگی سے قبل توقع ظاہر کی تھی کہ وہ وہاں ہلاک ہو جائے گا۔

یادر ہے کہ پیر کے روز ایران نے اعلان کیا تھا کہ حوثی ملیشیا کے ہاں اس کا سفیر حسن ایرلو کرونا وائرس سے متاثر ہو کر فوت ہو گیا ہے۔

ایران کے اس اعلان نے ایرلو کی وفات کی حقیقی وجوہات کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص جب کہ غالب گمان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایرلو یمن میں معرکہ آرائی میں زخمی ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں