اسرائیلی وزیر دفاع سے ملاقات میں کوئی رعائت نہیں پیش کی گئی: مشیرِ محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی کے مشیر محمود الہباش نے زور دے کر کہا ہے کہ منگل کے روز محمود عباس اور اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینز کے ساتھ ملاقات میں فلسطینی اتھارٹی نے کوئی رعائت پیش نہیں کی۔

بدھ کے روز العربیہ /الحدث نیوز چینلوں کو دیے گئے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ عباس اور گینز کے بیچ ملاقات میں ہونے والی پیش رفت فلسطینیوں کے مفاد میں ہے۔

ملاقات کے بعد گینز نے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے مقصد سے منصوبوں کے ایک مجموعے کی منظوری دی۔ ان میں بعض رقوم کا جاری کیا جانا اور کام اور قیام کے اجازت نامے شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع کے دفتر نے بدھ کے روز بتایا کہ بینی گینز اعتماد سازی کے اقدامات پر آمادہ ہو گئے۔ ان میں ٹیکس سے وصول ہونے والی رقوم فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا، فلسطینی تاجروں اور اہم ذمے داران کو سیکڑوں پرمٹ جاری کرنا اور مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں ہزاروں فلسطینیوں کو قیام کی حیثیت دینا شامل ہے۔

تل ابیب میں بینی گینٹز کے گھر پر ہونے والی اس ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سکیورٹی ہم آہنگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے گینٹز اور عباس کی ملاقات کو اسرائیل کی سیکورٹی کے لیے اہم قرار دیا۔

محمودعباس کے ایک معاون خصوصی حسین آل شیخ نے کہا کہ اس ملاقات میں نئے سیاسی افق کی تلاش کی اہمیت کے علاوہ آباد کاروں کے طرزعمل کی وجہ سے بر سر زمین کشیدہ حالات پر غور کیا گیا۔ سلامتی، اقتصادی اور انسانی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز
اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز

دوسری جانب حماس تنظیم نے اس ملاقات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے فسلطینیوں کے درمیان باہمی تقسیم کی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں