علامہ قرضاوی کی بیٹی دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے سے باعزت بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نامور مصری نژاد عالم دین اور مبلغ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی صاحبزای علا القرضاوی کو دہشت گردی کے لیے مالی وسائل فراہمی کے مقدمات سے باعزت بری کر دیا گیا ہے۔

علا القرضاوی کے وکیل احمد ابو العلا ماضی مقدمے سے بریت کے بعد اپنی موکلہ کے جمعہ کے بعد دوپہر بخیریت گھر لوٹنے کی تصدیق کی ہے۔

قومی سلامتی سے متعلق اداروں نے علا القرضاوی کے خلاف 2017 اور 2019 میں دو مقدمات قائم کیے گئے تھے جن میں الزام عاید کیا گیا تھا کہ علا ’’دہشت گرد‘‘ تنظیم سے وابستہ ہیں جسے انھوں نے قید کے دوران مالی تعاون فراہم کیا۔

عدالتی ذرائع نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے تیار کردہ فرد جرم کی روشنی میں جنرل پراسیکیوشن نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ فرد جرم میں الزام لگایا گیا تھا کہ یوسف القرضاوی کی صاحبزادی نے اخوان المسملون کے ساتھ مل کر مصر میں پرتشدد کارروائیوں کا منصوبہ تیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بیرون ملک سے غیر قانونی چینل استعمال کرتے ہوئے بھاری رقوم جمع کیں جنہیں اخوان کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اخوان کے انتظامی دفاتر میں گورنریوں کی سطح پر ایسی فہرست ملیں جن کی روشنی میں فنڈ جمع کیا جاتا تھا۔ اس فنڈ کو تنظیم کے ارکان اسلحہ خریدنے اور دوسرے کاموں میں استعمال کرتے تھے۔ نیز علا القرضاوی کو فنڈ ریزنگ فہرستوں اور ان خفیہ بینک اکاونٹ سے متعلق معلومات تھیں جہاں سے سے مالی سوتے رقوم حاصل کرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں