مسلمانوں کو نسل کشی کی دھمکیاں، پانچ سابق بھارتی فوجی سربراہان کا مودی کو کھلا خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی مسلح افواج کے پانچ سابق سربراہان سمیت 200 سرکردہ شخصیات نے صدر رام ناتھ کووند اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے اور ریاست اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ہونے والے ہندو مذہب کے اجتماع میں مبینہ اشتعال انگیزی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ اجتماع 17 سے 19 دسمبر کے درمیان منعقد ہوا تھا اور اس میں مبینہ طور پر ہندوؤں سے ہتھیار اٹھانے اور مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کی گئی تھی۔ مذکورہ شخصیات نے اپنے خط میں مبینہ اشتعال انگیزی کے دیگر واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مذکورہ خط پر سابق چیف آف اسٹاف ایڈمرل لکشمی نرائن رام داس، سابق ایڈمرل وشنو بھاگوت، سابق ایڈمرل ارون پرکاش، سابق ایڈمرل آر کے دھوون، سابق ایئر چیف مارشل ایس پی تیارگی اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ وجے اوبرائے نے دستخط کیے ہیں۔

کھلے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلی کال‘ سے ملک اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار ہو گا اور بیرونی قوتوں کے لیے حوصلہ افزا بات ہو گی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خطے میں اتراکھنڈ کے ہریدوار اور دہلی میں عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں جیسی دیگر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا گیا۔

خط میں سرحدوں کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ تشدد کی اس طرح کی کالیں ملک کے اندر امن وہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ملک کے اندر امن کی کسی بھی خلاف ورزی سے دشمن بیرونی قوتوں کو حوصلہ ملے گا اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) اور پولیس فورس مذہبی بنیاد پر نفرت آمیز بیانات کی وجہ سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

خط میں کہا گیا کہ ’ہم نفرت اور تشدد پر مبنی عوامی اظہار کو اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتے، جو نہ صرف داخلی سلامتی کی سنگین خلاف ورزیوں کو تشکیل دیتا ہے بلکہ جو ہماری قوم کے سماجی تانے بانے کو بھی تباہ سکتا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے اپنی فوج کو ہی حصہ لینے کے لیے دعوت دینا یہ ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو خط لکھا تھا، جس میں سپریم کورٹ سے تشدد کی کالوں کا ازخود نوٹس لینے کو کہا گیا تھا۔ وکلا نے لکھا تھا کہ پولیس کارروائی نہ ہونے کے بعد ’ایسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے جو بظاہر روز کا معمول بن چکے ہیں‘۔

خیال رہے کہ چند روز قبل بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں حکمران جماعت بھارتی جتنا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ہندؤوں کی جانب سے ایک مذہبی اجتماع میں مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق نفرت آمیز تقریر پر پولیس کارروائی کرنے میں ناکام رہی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں