یمن اور حوثی

صنعاء : تاجروں پر حوثیوں کی قیود ، نجی سیکٹر آخری سانسیں لیتا ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تاجروں اور کاروباری شخصیات پر غیر منصفانہ فیصلے لاگو کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا مقصد اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نجی سیکٹر کو گرفت میں لینا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق کہ حوثی ملیشیا نے ایسے فیصلے کیے ہیں جن کے تحت مختلف نوعیت کا سامان اور اشیاء درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان میں لہسن، موسمی اور منقّی شامل ہے۔ اس سے قبل کے فیصلوں میں حوثی ملیشیا تمام اقسام کے خشک میوہ جات، پھلوں، سبزیوں، بعض ادویات، چھوٹی وینوں اور دیگر اشیاء کی درآمد کو ممنوع قرار دے چکی ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے مذکورہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ان اقدامات کا مقصد درآمد کنندہ بڑے تاجروں پر مکمل غلبہ حاصل کر کے اپنے ہمنوا دیگر افراد کو ان کی جگہ دینا ہے۔

صنعاء اور دیگر یمنی شہروں کے باسی اس بات پر حیران ہیں کہ زیادہ تر ممنوعہ درآمدی اشیاء ابھی تک حوثیوں کے زیر قبضہ شہروں کی منڈیوں اور تجارتی مراکز میں پھیلی ہوئی ہیں۔

صنعاء میں تجارتی اور صنعتی سیکٹر میں کام کرنے والوں نے اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ حوثی ملیشیا نے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد منظم طور پر حکومتی اور نجی اقتصادی سیکٹر کو لوٹنے اور تباہ کرنے کا آغاز کر دیا تھا۔ ملیشیا نے لاکھوں افراد کو بھوکا رکھ کر اپنے ساتھ مختص معیشت قائم کی۔ اس واسطے ریاست کے تمام وسائل کی لوٹ مار کی گئی اور ریاستی اداروں پر قبضہ کر لیا گیا۔ ساتھ ہی نجی سیکٹر کے سوتے خشک کر کے حوثی ملیشیا کے زیر انتظام کمپنیوں کو مستحکم کیا گیا۔

مقامی آبادی کے مطابق حوثی قیادت نے اپنی خصوصی معیشت قائم کرنے کی راہ میں تمام وسائل اختیار کیے۔ انہوں نے مقامی معیشت کی فعالیت کو ناکارہ بنانے کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔ اس میں سرکاری کمپنیوں اور اداروں کی نجکاری اور نجی کمپنیوں کا قیام شامل ہے۔ علاوہ ازیں ٹیکسوں اور دیگر نوعیت کے "بھتوں" کو نافذ کیا گیا۔

مقامی لوگوں نے واضح کیا کہ حوثی باغیوں کے تباہ کن برتاؤ کے جاری رہنے کے نتیجے میں نجی سیکٹر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ حوثی ملیشیا کی مجرمانہ کارستانیوں کے نتیجے میں درجنوں نجی تجارتی کمپنیوں اور اداروں نے اپنے دیوالیہ ہو جانے کا اعلان کر دیا۔

یاد رہے کہ دارالحکومت صنعاء کے تاجروں اور بیوپاریوں نے دتمبر 2021ء میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سامان اور اشیاء کے نرخوں کی نئی فہرست کو مسترد کر دیا تھا۔ ملیشیا کا کہنا تھا کہ فہرستوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا کا سامنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں