مصر کا بحالیِ امن کا مطالبہ ، اسرائیل کی حماس کے راکٹ حملے روکنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکاںوں پر اسرائیلی بم باری کے بعد مصر ایک بار پھر وساطت کار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے آ گیا ہے۔

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع کے مطابق مصری سیکورٹی ذمے داران نے اسرائیل سے جارحیت روکنے اور فوجی حملوں کا سلسلہ موقوف کرنے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ فریقین کے بیچ صورت حال کی ابتری کو روکا جا سکے۔

قاہرہ نے زور دیا ہے کہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کو عمل میں لایا جائے۔

معلومات کے مطابق مصری ذمے داران نے غیر مشروط جنگ بندی کے واسطے تمام فریقوں سے رابطے کے ہیں۔ ساتھ ہی حماس تنظیم پر بھی زور دیا ہے کہ وہ جذبات پر قابو رکھے۔

سرایا القدس
سرایا القدس

ادھر اسرائیل نے وساطت کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو راکٹ داغنے کا سلسلہ روکنا ہو گا ورنہ غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں مسلح عناصر نے تل ابیب کے ساحل کے زندیک دو راکٹ داغے۔ اس کے بعد جوابی کارروائی میں غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔

رواں سال مئی (2021ء) میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں بھرپور آپریشن کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 250 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں غزہ میں کئی علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو گیا۔ اس پیش رفت پر مصر نے وساطت کار کے طور پر مداخلت کے ذریعے اپنی سرپرستی میں 12 مئی کو جنگ بندی کا اعلان کروایا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی سرحدی گزر گاہوں کو جزوری طور پر کھول دیا۔ یہاں سے بنیادی ضروریات کی انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں