بار بار وارننگ کے بعد ٹویٹر نے امریکی رکن کانگریس کا اکاؤنٹ معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ٹویٹر‘کے ایک بیان کے مطابق کمپنی نے اتوار کو امریکی رکن کانگریس ’مارگوری ٹیلر گرین‘ کے ذاتی اکاؤنٹ پر عارضی طورپر پابندی لگا دی ہے۔ ٹویٹر کا کہنا ہے کہ مسز گرین کے خلاف یہ اقدام کرونا ڈس انفارمیشن پالیسی کی متعدد خلاف ورزیوں کے ارتکاب پرکیا گیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گرین کا اکاؤنٹ اس "الرٹ" سسٹم کے تحت مستقل طور پر معطل کر دیا گیا تھا جسے ٹویٹر نے مارچ میں شروع کیا تھا۔ اس الرٹ سسٹم کا کا مقصد مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے کرونا وائرس کے بارے میں گمراہ کن پوسٹس کی نشاندہی کرنا تھا جو لوگوں کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہیں۔

ٹویٹر کی پالیسی کے تحت دو یا تین بار کی وارننگ پرخلاف ورزی کی صورت میں اکاؤنٹ 12 گھنٹے کےلیے معطل کردیا جاتا ہے۔ چار بار وارننگ پر ایک ہفتے کے لیے اور پانچ بار کی وارننگ پر بھی باز نہ آنے پر صارف کا اکاوٗنٹ مکمل طور پر حذف کردیا جاتا ہے۔

ٹویٹر کی طرف سے امریکی رکن کانگریس کے خلاف یہ کارروائی اس کے ذاتی اکاؤنٹ پرکی گئی ہے۔ اس کا اطلاق ان کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر نہیں ہو گا۔

گرین نے جولائی میں اکاؤنٹ کو ایک ہفتے کے لیے معطل کیے جانے سے کچھ دیر قبل ایک ٹویٹ پوسٹ کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ وائرس ان لوگوں کے لیے خطرناک نہیں ہے جو موٹے نہیں ہیں اور جن کی عمر 65 سال سے کم ہے۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق کرونا وائرس سے ہونے والی 250,000 اموات میں 65 سال سے کم عمر کے لوگ شامل ہیں۔

اس سے قبل گرین نے اپنے اکاؤنٹ کو ایک ہفتے کے لیے معطل کیے جانے کو "آزادی اظہار پر کمیونسٹ طرز کا حملہ" قرار دیتے ہوئے تنقید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں