سیف الاسلام قذافی صدر نہیں بن سکے گا : روسی سیاسی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اگرچہ لیبیا میں صدارتی انتخابات ابھی تک دھند کی لپیٹ میں ہیں البتہ روسی صدارتی دفتر کریملن کی ایک مقرب شخصیت کے مطابق سیف الاسلام قذافی اور ان کی نامزدگی کا انجام بظاہر اچھا نظر نہیں آ رہا ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کے قریبی ایک بڑے تاجر Yevgeny Prigozhin کے لیے سیاسی مشیر کے طور پر کام کرنے والے Maxim Shugaley نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ کرسی صدارت کی دوڑ میں معمر قذافی کے بیٹے کی قسمت اچھی نہیں ہے۔ شوگالے نے 18 ماہ لیبیا کی ایک جیل میں گزارے۔ اس پر معمر قذافی کے مفاد کے واسطے لیبیا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی سازش کا الزام تھا۔ کرملن ہاؤس کی مداخلت کے ذریعے اس کی رہائی عمل میں آئی۔

امریکی نیوز ایجنسی بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں 55 سالہ شوگالے کا کہنا تھا کہ وہ سیف الاسلام قذافی کے صدر بننے کے حوالے سے نا امید ہیں۔

شوگالے نے خبردار کیا کہ اگر سیف الاسلام کی نامزدگی کی اجازت نہ دی گئی یا ان کے حامیوں نے یہ سمجھا کہ وہ غیر منصفانہ طور پر انتخابات میں شکست سے دوچار کیے گئے ہیں تو ایک بار پھر تنازع بھڑک سکتا ہے۔ شوگالے کے مطابق یہ ایک "ملتوی شدہ ٹائم بم" ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے حلیفوں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں کئی بار الزام عائد کیا کہ ماسکو نے امریکا کے حمایت یافتہ عبوری حکام کی سپورٹ کی کاوشوں کو برباد کرنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ روس "ویگنر" کمپنی کے ذریعے اجرتی جنگجوؤں کی بھرتی میں ملوث رہا ہے۔ اس بھرتی کا مقصد طرابلس میں حکومتی فورسز کا راستہ روکنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں