سوڈانی وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں کئی ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔

پیر کی صبح سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں حمدوک نے بتایا کہ انہوں نے وزارت عظمی کے عہدے سے مستفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ حمدوک کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوڈان کو المیے کے گڑھے میں لڑھکنے کے خطرے سے بچانے کی کوشش کی۔

وزیر اعظم کے مطابق مکالمہ ہی ایک جمہوری شہری تبدیلی کی سمت تکمیل پر موافقت کا حل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سوڈان میں سب سے بڑا بحران سیاسی بحران ہے اور قریب ہے کہ یہ جامع بحران بن جائے گا۔

حمدوک نے واضح کیا کہ عوامی انقلاب اپنے مقصد کی سمت گامزن ہے اور فتح ایک حتمی امر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں نے دو سال سے زیادہ عرصے تک اپنے وطن کی خدمت کا شرف حاصل کیا"۔

حمدوک نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ سوڈان کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری قائم کریں۔ سوڈان میں وسائل کی کمی نہیں اور اسے عطیات پر زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ مسلح افواج ہی عوام کی طاقت ہیں جو ان کے امن اور ملک کی اراضی کی خود مختاری کا تحفظ کرتی ہیں۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ نومبر میں طے پانے والا سیاسی معاہدہ تمام فریقوں کو بات چیت کی میز پر لانے کی ایک کوشش تھی۔ انہوں نے باور کرایا کہ وزارت عظمی کے منصب کے لیے نامزدگی سیاسی موافقت کے بعد قبول کی تھی۔ عبوری حکومت کو بڑے چیلنجوں کا سامنا رہا۔ ان میں اہم ترین بین الاقوامی طور پر تنہا ہونا اور قرضے ہیں۔

سوڈان : مظاہرے اور احتجاج
سوڈان : مظاہرے اور احتجاج

واضح رہے کہ وزیر اعظم حمدوک کا اپنے منصب سے استعفا گذشتہ برس اکتوبر سے جاری عوامی احتجاج کے کئی ماہ گزرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران میں مظاہرین نے مسلح افواج کی جانب سے مسلط اقدامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان اقدامات کے تحت حکومت اور خود مختار کونسل کو تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح 21 نومبر کو مسلح افواج کے سربراہ اور حمدوک کے بیچ طے پائے جانے والے نئے معاہدے کو بھی عوام کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس معاہدے میں اقتدار میں عسکری جزو کو بھی قبول کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں