تھیرانوس کی سابق سی ای او ہومز دھوکا دہی اور سازش کے الزام میں قصوروارقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سلیکون ویلی کی ایک کمپنی تھیرانوس کی سابق چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) کےکیس نے اس ویلی کے لالچ اور غوغاآرائی پرمبنی کلچرکوبے نقاب کیا ہے۔ایک جیوری نے ایلزبتھ ہومز کو پیر کے روز سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کی مجرمہ قرار دیاہے۔ان کی کمپنی نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ اس نے ایک انقلابی طبی آلہ تیار کیا ہے جو خون کے چند قطروں سے بیماریوں کا پتا لگا سکتا ہے۔

ہومز کمپنی کی 15 سالہ ہنگامہ خیز دور میں سی ای او رہی تھیں۔ان کے خلاف بارہ ارکان پر مشتمل جیوری نے کیس کی سماعت کی ہے۔جیوری نے سات دن کے غوروخوض کے بعد انھیں دھوکا دہی کی سازش کے دوجرائم میں قصور وار قرار دیا ہے۔

37 سالہ خاتون کو دھوکا دہی اور سازش کے چار دیگر الزامات میں بری کر دیا گیا ہے۔ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے تھیرانوس کے خون کے ٹیسٹ کی رقم ادا کرنے والے مریضوں کو بھی دھوکا دیا۔

جیوری میں شامل آٹھ مردوں اور چار خواتین نے تین ماہ تک اس پیچیدہ مقدمے کی سماعت کی ہے۔اس میں ثبوتوں کے انبارپیش کیے گئے ہیں اور 32 گواہ پیش کیے گئے ہیں۔ان میں خود ہومز بھی شامل تھیں۔ اب انھیں 20 سال تک قید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تاہم بعض قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ ہومزکو زیادہ سے زیادہ سزا ملنے کا امکان نہیں ہے۔

جیوری میں تین بقیہ الزامات پرتعطل رہا ہے جسے وفاقی جج مقدمے کے فیصلے کے حصے کے طور پر مسترد کرسکتے ہیں۔اس کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے کے اوائل میں آسکتا ہے۔اس کیس کی باریک بینی سے پیروی کرنے والے وکیل ڈیوڈ رنگ کا کہنا ہے کہ ہومزچند سال کے لیے جیل جا رہی ہیں۔

وفاقی استغاثہ نے ہومز کو شہرت اور قسمت کے جنون میں مبتلا ایک چالاک اور شاطر کے طور پردکھایا۔گواہوں کے مؤقف پر سات دن میں انھوں نے خود کو مردوں کے زیراثر سلیکون ویلی میں ایک وژنری کے طور پر پیش کیا۔انھوں نے جیوری کے روبرو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کے سابق ساتھی، محبوب اور کاروباری شراکت دار سنی بلوانی نے ان کا جذباتی اور جنسی استحصال کیا تھا۔

اس مقدمے میں سلیکون ویلی کے بہت سے کاروباری افراد کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایک غیرمعمولی حکمت عملی کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں-مقدمے کی سماعت میں شرکت کرنے والی سانتا کلارا یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر ایلن کریٹزبرگ نے پیشین گوئی کی کہ مقدمے کے نتیجے میں سی ای اوز کو یہ پیغام جائے گا کہ حدود سے تجاوزکرنے کے نتائج برآمد ہوں گے لیکن ان کا یہ بھی خیال ہے کہ لالچ سلیکون ویلی میں مبالغہ آرائی کو زندہ رکھے گا۔

کریٹزبرگ نے کہا کہ سرمایہ کاراب بھی ایک امید افزا خیال پر مزید پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔وہ ہمیشہ سنہری انگوٹھی کے حصول کے لیے کوشاں ہوں گے۔ہومز نے عدالت سے قریبی ہوٹل تک جاتے ہوئے جیوری کے فیصلے سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔اب وفاقی جج انھیں سزا سنانے کا فیصلہ صادر کریں گے۔وہ سزا کے انتظار میں بانڈ پر جیل سے آزاد رہیں گے جس کا تعیّن جج کرے گا۔

جج نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بلوانی کے خلاف اسی طرح کے دھوکا دہی کے الزامات سے متعلق ایک الگ مقدمے کی تکمیل تک سزا پر روک لگائیں گے۔وہ 2009 سے 2016 تک تھیرانوس کے چیف آپریٹنگ آفیسر رہے تھے۔بلوانی کا مقدمہ اگلے ماہ اسی سان ہوزے کمرہ عدالت میں شروع ہونے والا ہے جہاں ہومز کی قانونی کہانی سامنے آئی تھی۔

ایک تحریری بیان میں امریکی اٹارنی اسٹیفنی ہنڈز نے وبا کے دوران میں اس کیس کو آگے بڑھانے پر جیوری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہومز کو اب ان کے جرائم پر’’مجرمہ‘‘ٹھہرایا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں