ویڈیو: طالبان نے افغانستان میں ڈمی خاتون ماڈلز کے سر قلم کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے صوبے ہرات میں ملبوسات فروخت کرنے والے دکانداروں نے طالبان کی جانب سے نئی ہدایات جاری ہونے کے بعد دکانوں کے ملبوسات پہنے تشہیری پُتلوں/مجسموں سے سر علاحدہ کرنے شروع کر دیے ہیں۔

طالبان کی وزارت 'امر بالمعروف ونہی عن المنکر' نے، جس کا کام طالبان کے نظریے سے اسلام کی تشریح ہے، گذشتہ ہفتے یہ احکامات جاری کیے تھے کہ چہروں والے یہ پتلے جن پر ملبوسات ٹنگے ہوتے ہیں اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہیں۔ ان پُتلوں کے سر جدا نہ کرنے کی صورت میں دکانداروں کو سزا بھگتنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

'امر بالمعروف ونہی عن المنکر' وزارت کے مقامی سربراہ عزیز رحمان نے میڈیا کو بتایا کہ دوکانوں میں استادہ یہ مجسمے "بت" ہیں اور اسلام میں بت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے انہوں نے ان پُتلوں کے سر تن سے جدا کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب کابل میں طالبان حکام نے مبینہ طور پر پبلک ٹیکسیوں کی نگرانی بھی سخت کر دی ہے۔ نئے احکامات کے تحت ٹیکسی ڈرائیورز بے حجاب خواتین کو سوار نہیں کر سکتے اور 72 کلومیٹر سے دور جانے کے لئے خواتین کے ساتھ محرم کا ہونا بھی لازمی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیورز کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ داڑھی رکھیں، نماز کے وقت ٹیکسی روکیں اور سواری میں گانے نہ چلائیں۔

اطلاعات کے مطابق وزارت کے احکامات کے تحت خواتین کے گاڑی چلانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ خواتین نیوز اینکرز کو بغیر حجاب خبریں پڑھنے کی اجازت نہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر ایسے تمام ڈراموں کو بند کر دیا گیا ہے جن میں خواتین اداکاروں نے کام کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سرکاری ٹیلیویژن کو انٹرویو میں وزارت 'امر بالمعروف ونہی عن المنکر' کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان احکامات پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ "افغانستان ایک مسلم ملک ہے اور یہاں کوئی اسلامی قوانین کے خلاف نہیں"۔

تاہم، ان کے مطابق، اسلامی تعلیمات کے اطلاق سے جڑے تمام اداروں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ شہریوں سے بدسلوکی نہ کریں اور نرمی سے پیش آتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے بارے میں آگاہی دیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ تمام افغان لڑکیاں پھر سے اسکولز جا سکیں گی، اس کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے صوبوں کے اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں