گھریلو اختلاف پر جھوٹی اطلاع نے عراقی خاندان کے 20 افراد کی جان لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں عدلیہ نے پیر 3 جنوری کو اپنے اعلان میں بتایا کہ ملک کے وسطی علاقے میں ایک سیکورٹی آپریشن میں ایک ہی خاندان کے 20 افراد کی ہلاکت کے پیچھے ایک مُخبر کی "غیر درست" معلومات کا ہاتھ ہے۔ مخبر نے خاندانی اختلافات کے نتیجے میں غلط معلومات فراہم کیں۔

عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بابل صوبے کے گاؤں الرشاید میں پیش آنے والے اندوہ ناک واقعے کے حوالے سے مذکورہ مخبر کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے 9 افسران اور تین منسوب افراد بھی شامل تحقیق ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا جب عراقی انٹیلی جنس اور اسپیشل مشنز کی مشترکہ فورس نے دو مطلوب افراد کی تلاش میں الرشاید گاؤں میں ایک گھر پر چھاپا مارا۔ دونوں افراد پر دہشت گردی کا الزام ہے۔

عدلیہ کے بیان کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والے ایک شخس کے بھتیجے نے جو اس کا داماد بھی ہے گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں سیکورٹی اداروں کو غلط معلومات فراہم کیں۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ سیکورٹی حکام کو مطلوب دو دہشت گرد ایک گھر میں موجود ہیں تا کہ سیکورٹی ادارے وہاں چھاپا ماریں۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور چار ملزمان کو پکڑنے کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

بابل صوبے کی پولیس کے مطابق جس گھر پر چھاپا مارا گیا تھا اس کے مالک نے خود کو حکام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں "20 شہری" اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مرنے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

عراقی وزارت داخلہ نے واقعے کے اگلے روز جمعے کو بابل صوبے کی پولیس کے سربراہ کو برطرف کر دیا۔ سیکورٹی فورسز نے کئی افسران کو حراست میں لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں