یمن اور حوثی

بحیرہ احمر میں ’’روابی‘‘ کی ہائی جیکنگ جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے: امریکہ

حوثیوں کا مجرمانہ اقدام اسٹاک ہوم معاہدے 2018 کے بھی منافی ہے: ترجمان عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی دفتر خارجہ نے یمن کے شہر الحدیدہ کے ساحلی شہر کی سمندری حدود میں متحدہ عرب امارات کا پرچم بردار ’’روابی‘‘ نامی بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ نے ’’روابی‘‘ کی ہائی جیکنگ کو بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے لیے خطرے کے گھنٹی قرار دیا ہے۔

مجرمانہ اقدام

ادھر یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی میں معاون عرب اتحاد برائے یمن کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ تجارتی جہاز روابی کو ہائی جیک کرنے کا واقعہ بین الاقوامی انسانی قانون اور متعلقہ سمندری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے-

ترکی المالکی نے کہا کہ روابی پر جزیرہ سقطری میں سعودی فیلڈ ہسپتال چلانے کے لیے درکار آلات اور لوازمات لدے ہوئے تھے۔ ہسپتال نے جزیرے میں سکونت پذیر ہزاروں یمنی شہریوں کو طبی خدمات اور صحت نگہداشت کی سہولیات فراہم کی تھیں-

المالکی نے مزید کہا کہ حوثیوں کو الصلیف بندرگاہ سے روابی جہاز چھوڑنا ہوگا- اس پر لدا ہوا تمام سامان بھی جو غیر حربی اور انسانی نوعیت کا ہے حوالے کرنا ہو گا-

بریگیڈئر جنرل المالکی نے توجہ دلائی کہ اگر حوثیوں نے جہاز نہ چھوڑا تو ایسی صورت میں بین الاقوامی انسانی قانون اور متعلقہ سمندری قوانین کے بموجب ایسی تمام بندرگاہیں جائز عسکری ہدف بن جائیں گی جو جہاز کو ہائی جیک کرنے، ہائی جیکرز کو پناہ دینے اور قزاقی کی سرگرمی میں استعمال ہوئی ہوں گی-

المالکی نے کہا کہ سمندر میں مسلح تنازعات کے بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے معاہدوں نے آبی گزرگاہوں اور سمندروں میں تجارت اور جہاز رانی کی آزادی مقرر کی ہوئی ہے- کسی بھی قانون میں نہ تو قزاقوں کو تحفظ دیا گیا ہے اور نہ پناہ گاہ فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے-

المالکی نے کہا کہ حوثیوں کا مذکورہ مجرمانہ عمل اسٹاک ہوم معاہدے 2018 کے منافی ہے- الحدیدہ شہر نیز الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسی بندرگاہوں سے متعلق دفعات کے بھی منافی ہے- حوثی دہشت گرد اب تک 30 ہزار 527 خلاف ورزیاں کر چکے ہیں-

یاد رہے کہ عرب اتحاد نے گذشتہ پیر کو متحدہ عرب امارات کے پرچم بردار تجارتی جہاز ’’روابی‘‘ کی ہائی جیکنگ کی تصدیق کی تھی- حوثی ملیشیا کے جنگجو نے جہاز کو الحدیدہ بندرگاہ کے سامنے سے گزرتے ہوئے اتوار کے روز رات گیارہ بجکر 57 منٹ پر قبضے میں لیا تھا-

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں