امریکا کے ہارن آف افریقا کے لیےخصوصی ایلچی جیفری فیلٹمین سبکدوش ہوجائیں گے

ترکی میں امریکا کے سبکدوش ہونے والے سفیر ڈیوڈ سیٹرفیلڈ خطے کے لیے نئے ایلچی ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے ہارن آف افریقا کے لیے خصوصی ایلچی جیفری فیلٹمین نوماہ سے زیادہ عرصہ کی ملازمت کے بعد رواں ماہ اپنے عہدے سے دستبردارہوجائیں گے اور ترکی میں سبکدوش ہونے والے امریکی سفیرڈیوڈ سیٹرفیلڈ ان کی جگہ خطے میں نئے ایلچی ہوں گے۔

تین ذرائع نے بدھ کو برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ جیفری فیلٹمین اپنے عہدے سے دستبردار ہورہے ہیں۔ان کی سبکدوشی کی خبرجمعرات کو ان کے ایتھوپیا جانے سے ایک روز پہلے سامنے آئی ہے۔وہ ایتھوپیا میں جاری مسلح تنازع کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کے تازہ دباؤ کے حصے کے طور پراعلیٰ سرکاری عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اور انھیں امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

62 سالہ فیلٹمین امریکا کے ایک تجربہ کارسفارت کار ہیں۔ وہ اقوام متحدہ، مشرق اوسط اور شمالی افریقامیں مختلف سفارتی عہدوں پر تعینات رہے تھے۔وہ اعلیٰ سفارت کار کی حیثیت سے 25 سال سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔امریکا کے محکمہ خارجہ نے ان کی سبکدوشی کی اطلاع پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

انھوں نے اپریل2021ء میں ہارن آف افریقا کے خطے کے لیے خصوصی ایلچی کا منصب سنبھالا تھا۔انھیں اس دوران میں دو بڑے بحرانوں سے پالا پڑا ہے۔ایک ایتھوپیا کی تیغرائی پیپلزلبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی وفادارفورسز اور وزیر اعظم ابی احمد کی فوج کے درمیان شدید خانہ جنگی اور دوسرا اکتوبر میں سوڈان میں فوجی بغاوت سے پیداہونے والی صورت حال ہے۔

افریقا کے خونیں تنازعات میں سے ایک ایتھوپیا کی حکومت اور شمال میں واقع تیغرائی خطے کی قیادت کے درمیان ایک سال سے جاری جنگ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ہلاک، لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں اور ملک میں قحط پھیل چکا ہے۔

ادھر سوڈان میں وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے مستعفی ہونے کے دو دن بعد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔انھیں 2019ء میں سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کی معزولی کے بعد تشکیل پانے والے نئے حکومتی بندوبست میں وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔

انھوں نے 25 اکتوبر کو فوج کی حکومت مخالف بغاوت تک خدمات انجام دیں۔فوجی قیادت نے انھیں معزول کردیا تھا۔پھر21 نومبر کو فوج نے ایک معاہدے کے تحت انھیں عہدے پر بحال کردیاتھا لیکن سوڈانی مظاہرین نے اس معاہدے کومسترد کردیا تھااور وہ ہزاروں کی تعداد کم وبیش روزانہ ہی فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

مسٹرفیلٹمین کے ممکنہ جانشین سیٹرفیلڈ امریکا کی خارجہ سروس میں چاردہائیوں سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ترکی میں امریکی سفیر کی حیثیت سے انھیں ایک بڑے چیلنج کا سامنارہا ہے اور ان کی تعیناتی کے دوران میں نیٹو کے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

انھوں نے انقرہ سے قبل سعودی عرب، لبنان، تُونس اور شام سمیت دیگرممالک میں خدمات انجام دی تھیں۔اس کے علاوہ انھوں نے محکمہ خارجہ میں مشرق اوسط کے امور کے لیے اعلیٰ امریکی سفارت کار کے طور پردو مرتبہ خدمات انجام دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں