سعودی دانشور حمد بن جروان کے ساتھ ہمدردی کے پیچھے کیا راز ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معروف نوجوان سعودی دانشور حمد بن جروان نے ٹویٹر پر اپنی بیماری کے حوالے سے نئی آگاہی فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی کے بڑے آپریشن کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم مفلوج بھی ہو سکتا ہے تاہم یہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ حمد کو 13 برس قبل کمر میں سرطان کا انکشاف ہوا تھا۔

ڈاکٹروں نے انہیں آپریشن کا آپشن دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ مفلوج ہو سکتے ہیں یا پھر موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ حمد کے مطابق اُس وقت جس اللہ نے بچایا تھا آج بھی وہ اللہ مجھے بچانے پر قادر ہے۔ ڈاکٹروں نے مجھے سوچنے کے لیے وقت دیا ہے۔

حمد بن جروان کئی برس سے سرطان کے موذی مرض کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔ اس مرض کے دوران میں ہی انہوں نے گریجویشن، ماسٹرز اور پھر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ سوشل میڈیا پر ان کے فالوورز کی ایک بڑی تعداد ہے جن کی نیک تمنائیں اور ہمدری حمد کے ساتھ ہے۔ ان فالوورز کا تعلق سعودی عرب، خلیجی ممالک اور عرب دنیا سے ہے۔

ڈاکٹر حمد بن جروان Tissue and nerve cancer میں مبتلا ہیں جو ایک انتہائی شدید نوعیت کا سرطان ہے۔ ان کو ریڑھ کی ہڈی کے پیچیدہ آپریشن کا سامنا ہے۔ اس کے ممکنہ نتائج میں موت یا مفلوج ہونا شامل ہے۔

حمد کی تازہ ٹویٹ پر ہزاروں افراد نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں نے حمد کے لیے صحت کی دعائیں کی ہیں۔ ساتھ ہی سعودی عرب اور مملکت کے باہر مشہور و معروف ڈاکٹروں کے نام بھی بتائے ہیں۔ ڈاکٹر حمد بن جروان انسداد سرطان کے لیے سعودی عرب کے سفیر بھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں