ایران کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کا مجسمہ نذرِآتش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کے اعزاز میں نصب ایک مجسمہ نامعلوم حملہ آوروں نے نذرآتش کردیا ہے۔اس کی نقاب کشائی چند گھنٹے قبل ہی کی گئی تھی۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمہ دارالقدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020ء کوعراق میں اپنے معاون ابومہدی المہندس اوردیگر افراد کے ساتھ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرامریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کی صبح ایران کے جنوب مغربی شہرکردمیں ان کے اعزازمیں ایک مجسمے کی نقاب کشائی کی گئی تھی لیکن شام کے وقت اسے آگ لگا دی گئی۔ ایران کے نیم خبررساں ادارے ایسنا نے واقعہ کو’’نامعلوم افراد کی شرمناک حرکت‘‘قراردیا ہے۔

سینئرعالم دین محمدعلی نیکونام نے ایسناکی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ فریب دہی کا جرم بغداد کے ہوائی اڈے پر رات کے وقت کیے گئے بڑے جرم کی طرح اندھیرے میں کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام نے گذشتہ دوسال کے دوران میں قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے ان سے منسوب متعدد مجسموں کی نقاب کشائی کی ہے اورمقتول کمانڈر کی تصاویر پورے ایران میں آویزاں کی گئی ہیں۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اریب نے اس تازہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’’توہین آمیز‘‘کارروائی قراردیا ہے۔یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منارہا ہے اور حالیہ دنوں میں کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔جمعرات کو ہزاروں ایرانیوں نے 1980-1988ء کی ایران،عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے 250 ’’نامعلوم شہیدوں‘‘کوبھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

تہران میں ایک سوگوارعلی اصغر نے کہا کہ ہم ہمیشہ حاجی قاسم (سلیمانی) کی طرح شہیدوں کے نقصان کا شکار رہتے ہیں کیونکہ وہ سب اپنے دل سے محاذاوّل پر لڑتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں