روس کی قیادت میں سکیورٹی اتحاد کا پہلا فوجی دستہ قازقستان روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

روس کی قیادت میں فوجی اتحاد نے قازقستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پرقابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے مدد کی درخواست کے بعد اپنا پہلا فوجی دستہ شورش زدہ ملک میں بھیج دیا ہے۔

اجتماعی سکیورٹی ٹریٹی تنظیم (سی ایس ٹی او) کے سیکرٹریٹ نے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخروفا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ تنظیم برائے اجتماعی سلامتی نے امن دستوں کو صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے جمہوریہ قازقستان میں بھیجا ہے اور ان کی تعیناتی محدود مدت کے لیے ہوگی۔

بیان کے مطابق روس، بیلاروس، آرمینیا، تاجکستان اور کرغزستان کی مسلح افواج کے یونٹ بھیجے گئے ہیں۔واضح رہے کہ روس کے زیرقیادت سی ایس ٹی او میں قازقستان کے علاوہ پانچ دیگرممالک شامل ہیں۔

بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کل کتنے فوجی بھیجے جا رہے ہیں مگرکہا گیا ہے کہ روسی دستے میں فضائیہ کے ارکان بھی شامل ہیں۔

ان فوجیوں کا قازقستان میں اہم کام ریاستی اور فوجی تنصیبات کا تحفظ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد مہیا کرنا ہوگا۔ وہ شورش زدہ ملک میں ابترصورت حال کو مستحکم کرنے میں مدد دیں گے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ روسی دستوں کو فوجی طیاروں کے ذریعے قازقستان منتقل کیاجا رہا ہے اورہراول یونٹوں نے پہلے ہی تفویض کارانجام دینا شروع کردیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں