عراق اور شام میں امریکی افواج کو نشانہ بنائے جانے سے خبردار کرتے ہیں : واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے ایسے کسی بھی خطرے سے خبردار کیا ہے جو عراق میں اس کے فوجیوں کو لپیٹ میں لے۔ یہ انتباہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے عراق میں عین الاسد فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کے اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے جمعے کے روز العربیہ / الحدث نیوز چینلوں کو بتایا کہ واشنگٹن عراق میں اپنی افواج کے لیے کسی بھی خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ ان کا ملک کسی بھی خطرے کے حوالے سے اپنی افواج کے دفاع کا حق رکھتا ہے خواہ یہ خطرہ عراق میں ہو یا شام میں !

ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی تنگسیری نے عراقی صوبے الانبار میں عین الاسد کے اڈے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ اس اڈے پر امریکی مشیر بھی موجود ہیں۔

انہوں نے ایک پریس انٹرویو میں مزید کہا کہ عین الاسد اڈے کو نشانہ بنانا "ہمارے ردعمل کے نمونوں میں سے ایک ہے"۔ساتھ ہی انہوں نے خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

عراقی سیکیورٹی میڈیا سیل نے واضح کیا تھا کہ فضائی دفاع نے ایک نامعلوم ڈرون کو روکا تھا جس نے کل شام الانبار میں عراقی فضائیہ کی کمان کے فضائی اڈے کے قریب جانے کی کوشش کی تھی۔ اس ڈرون طیارے کو "عین الاسد" بیس کے قریب سے مار گرایا گیا تھا۔

عین الاسد بیس کو گذشتہ دو دنوں کے دوران متعدد بار میزائل حملوں کے علاوہ نامعلوم ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی اتحاد کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ پانچ میزائل بیس کے قریب گرے، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

منگل کو عین الاسد کو دھماکہ خیز مواد سے لیس دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جب کہ بغداد ایئرپورٹ پر ایک امریکی سفارتی مرکز کو بھی دو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

اہم اہلکار کے مطابق دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، اور ان کے نتیجے میں جانی یا نقصان نہیں ہوا۔

یہ حملے دو سال قبل بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن اتھارٹی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے قتل کی دوسری برسی کے موقع پر ہوئے تھے۔

ایران اور اس کی وفادار عراقی ملیشیا نے طویل عرصے سے رہ نماؤں کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انتقامی کارروائیوں کے دوران ان پر عراق میں امریکی تنصیبات پر راکٹوں اور ڈرون طیاروں سے حملے کیے گئے۔

سال 2020 کے موسم گرما سے لے کر اب تک تقریباً 2500 امریکی فوجی اور ایک ہزار اتحادی افواج عراقی افواج کو مشورے اور تربیت فراہم کرنے کے لیے عراقی سرزمین پر موجود ہیں جب کہ 2014 میں عراق میں تعینات کیے گئے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے روڈ میپ پر کام شروع کیا تھا۔

تقریبا 900 امریکی فوجی شام کے شمال مشرق میں اردن اور عراق کی سرحدوں کے نزدیک التنف کے فوجی اڈے میں تعینات ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں