فرانسیسی اکیڈمی کا شناختی کارڈ میں انگریزی ترجمہ شامل کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی اکیڈمی نے تصدیق کی ہے کہ وہ فرانسیسی شناختی کارڈ کی مستقبل کی شکل میں انگریزی میں لکھے گئے الفاظ کو ہٹانے کے لیے انتظامی عدالتوں سے رجوع کے لیے تیار ہے۔ اکیڈمی کے مستقل سکریٹری ایلین کیرئیر ڈینکوس نے اخبار "لی فیگارو" کو بتایا کہ وہ شناختی کارڈ پر انگریزی میں ترجمے کو قبول نہیں کرے گی۔

فرانسیسی زبان سے تعلق رکھنے والے اس ادارے کے سربراہ کیرئیر ڈینکوس نے اخبار کو بتایا کہ "اکیڈمی نے ایک طویل عرصے تک ایسے بیانات کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو قابل قبول تھے، لیکن آج تمام بیانات ضائع ہو گئے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ایکیڈمی طویل عرصے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اب کسی اور طریقے سے مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔"

اکیڈمی نے باور کرایا کہ حکومت کی طرف سے تیار کردہ شناختی کارڈ کا یہ ماڈل آئین سے مطابقت نہیں رکھتا جس میں کہا گیا ہے کہ "جمہوریہ کی زبان فرانسیسی ہے"، اگر انگریزی لفظ "Surname" کو فرانسیسی لفظ Nom کے آگے شامل کیا جائے (جس کا مطلب شہرت ہے۔ ) یا فقرہ "Given Name" کی جگہ The "Prénoms" دیا جائے۔

ڈانکوس نے انگریزی الفاظ کی شمولیت کو ایک بنیادی اصول کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اس دستاویز میں فرانسیسی اور انگریزی زبانوں کو برابر کرنے کا فیصلہ کس نے کیا؟"

انہوں نے توجہ دلائی کہ یورپی ضوابط جن کا تقاضا ہے کہ "Carte d'identité" (فرانسیسی میں "شناختی کارڈ" کا مطلب ہے) کا کم از کم کسی دوسری یورپی سرکاری زبان میں ترجمہ کیا جائے، یہ نہیں کہا گیا کہ شناختی کارڈ کی کسی اور تفصیلات کا ترجمہ کیا جائے۔

"لی فیگارو" نے اطلاع دی ہے کہ اکیڈمی نے "ایک قانونی فرم کو وزیر اعظم جین کاسٹکس کو ایک مکتوب بھیجنے کی ذمہ داری سونپی کہ وہ "نئے قومی شناختی کارڈ کے بارے میں فیصلہ منسوخ کریں" تاہم دفتر کو ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ وکلاء اس معاملے کو فرانس میں انتظامی عدلیہ کی اعلیٰ ترین سطح کی مشاورتی اسمبلی کو بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں