افغانستان وطالبان

لمبی زلفوں والے طالبان نے لوگوں کے بال زبردستی کاٹنا شروع کردیے: ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طالبان جنہوں نے اگست 2021 کے وسط میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، شہریوں پر اپنے سخت قوانین مسلط کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

خواتین کو کھیلوں سے منع کرنے، موسیقی پر پابندی، داڑھی بڑھانے کی ضرورت کو مسلط کرنے، کپڑوں کی دکانوں کو ماڈلز کے سر کاٹنے پر مجبور کرنے کے بعد اب مردوں کے بال کٹوانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ حالانکہ خود طالبان کی اکثریت لمبے بال رکھتی ہے۔

گذشتہ روز ایک ویڈیو سوشل میڈٰیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس میں تحریک طالبان کے ایک کمانڈر کو ایک افغان شہری کو مارتے ہوئے اور اس کے بالوں کو زبردستی کاٹتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ شہری اپنے بال زبردستی کاٹنے پر سخت غصے میں دکھائی دیتا ہے۔

سڑک کے بیچ اور راہگیروں کی حیرانی میں ’’بے بس‘‘ آدمی طالنان جنگجو کے قہر کے سامنے کھڑا تھا۔

سر قلم کرنا

اس سے قبل جب طالبان نے ملک کے مغرب میں ہرات میں کپڑے بیچنے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اسٹورز میں مجسموں کے سر کاٹ دیں۔

تقریباً 600,000 کی آبادی والے ملک کے تیسرے بڑے شہر ہرات میں طالبان کے ایک اہلکار عزیز رحمان نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے تاجروں سے کپڑوں کی نمائش کے لیے بنائے گئے ماڈلزکے سر کاٹ دینے کو کہا، کیونکہ وہ شریعت کے خلاف ہیں۔

اس نے مزید کہا کہ اگر وہ مجسموں کے سروں کو ڈھانپنے یا انہیں مکمل طور پر ڈھانپتے ہیں، تو خدا کا فرشتہ ان کی دکان یا ان کے گھر پر ان کو برکت دینے نہیں آئے گا۔ دکانداروں نے ان کے احکامات کی تعمیل کی ہے۔

ہرات میں متعدد تاجروں نے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ بشیر احمد نے افسوس کے ساتھ کہا کہ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں ہم نے سٹور میں موجود ماڈلز کے سر کاٹ دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ماڈل کی قیمت 5,000 افغانی (تقریباً 42 یورو) ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی ماڈل ہی نہیں تو صارفین کو مصنوعات کیسے فروخت کی جا سکتی ہیں؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں